کیا اماراتی صیہونی اتحاد ٹوٹنے جا رہا ہے؟

امارات

?️

سچ خبریں:ایک عربی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورۂ امارات کے انکشاف کے بعد ابوظبی اور تل ابیب کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔

ایک عربی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ دنوں میں غیر معمولی میڈیا تنازع کے بعد تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

رائے الیوم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ تل ابیب اور ابوظبی کے درمیان حالیہ میڈیا کشمکش نے دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک واضح دراڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنازع کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکام، خصوصاً وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران امارات میں ہوئے۔

اگرچہ امارات نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکام کے کسی بھی دورے کی تردید کر دی تھی، تاہم عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے بھی چند روز قبل ابوظبی کا دورہ کیا تھا۔

یہ بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ نتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا تھا اور وہاں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی۔

اسرائیلی بیان میں اس ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا، تاہم اس دورے کی تاریخ یا تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو نتن یاہو کا کوئی دورہ ہوا اور نہ ہی کسی اسرائیلی فوجی وفد کو ملک میں خوش آمدید کہا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا سی این این نے بھی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی تھی کہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے تیار کیے گئے آئرن ڈوم دفاعی نظام کو عملے سمیت امارات منتقل کیا جائے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے جنگ کے دوران ابوظبی کا دورہ کیا اور اماراتی صدر محمد بن زاید سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ملاقات العین شہر میں ہوئی جو عمان کی سرحد کے قریب اور ایران کی سرحد سے تقریباً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے واضح شواہد موجود ہیں جن کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران امارات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے امارات کی سرزمین پر صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اور ابوظبی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے سلامتی کو فروغ دے۔

رپورٹ کے اختتام پر سوال اٹھایا گیا کہ یہ خفیہ ملاقاتیں اب کیوں منظر عام پر آئیں اور کیا امارات اور اسرائیل کے درمیان قائم تعلقات کا ماہ عسل ختم ہونے جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی سے 6ستمبر تک جواب طلب کرلیا

?️ 23 اگست 2022اسلام آباد:( سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی  ممنوعہ فنڈنگ

نیتن یاہو کے ایران اور انصاراللہ کے خلاف بے بنیاد الزامات

?️ 5 مئی 2025 سچ خبریں:قابض صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران اور انصاراللہ

غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا اصلی ذمہ دار کون ہے؟ حماس کے اعلی عہدیدار

?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینئر رکن نے

نیتن یاہو عام معافی اور سیاسی زندگی کے خاتمے کے درمیان 

?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں:  اسرائیل کے وزیراعظم، بنجمن نیتن یاہو کے ذریعے صدر اسحاق ہرزوگ

جن جگہوں پر اسرائیل نے حملے کئے تھے وہاں ہمارے قائدین موجود نہیں تھے

?️ 29 اگست 2025جن جگہوں پر اسرائیل نے حملے کئے تھے وہاں ہمارے قائدین موجود

صیہونی شہریوں نے نیتن یاہو کو کیسے الوداع کہا؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی عدالتی پالیسیوں کے

صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے دورے کے خلاف بحرینیوں کا احتجاج جاری

?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:  شرکاء نے بحرینی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے

بھارتی آرمی چیف کا سیز فائر کا دعویٰ گمراہ کن ہے

?️ 4 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر بابر افتخار نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے