غزہ کی بھوک اور دنیا کی خاموشی

غزہ

?️

سچ خبریں21 ماہ تک غربت اور صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف خاموش رہنے کے بعد، مغربی اور امریکی میڈیا جیسے CNN اور MSNBC بالآخر جاگتے نظر آ رہے ہیں۔ آج یہ تمام میڈیا غزہ میں بھوک اور قحط کے بحران پر بات کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار "ڈیلی ایکسپریس”، جو ایک قدامت پسند میڈیا ہے، نے "ابھی بھوک کو روکیں” کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی، جس کے ساتھ غزہ کے ایک بھوکے فلسطینی بچے کی تصویر بھی شامل تھی۔ اخبار نے لکھا کہ جو لوگ غزہ کے جہنم میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ہم سب کے لیے شرم کا باعث ہیں۔ برطانوی صحافی میٹ کینارڈ نے کہا کہ صہیونی ریاست نے ڈیلی ایکسپریس کی حمایت کھو دی ہے۔
غزہ کی بھوک اور دنیا کی بیداری
مغربی اور امریکی میڈیا کے سخت فریم ورک میں تبدیلی نظر آ رہی ہے، جو پہلے صہیونی قبضہ کاروں کے مظالم کو جواز دیتے تھے۔ اب ان کے بیانات میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ دنیا لگاتار کئی ہفتوں سے غزہ کے بھوک سے مرتے بچوں کی تصاویر دیکھ رہی ہے، جو ڈھانچے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہبہ المقادمہ، غزہ کی 24 سالہ صحافی، کہتی ہیں کہ بھوک صہیونی ریاست کا سب سے مہلک ہتھیار بن چکا ہے، جو بموں سے بھی زیادہ تباہ کن ہے۔ غزہ میں اب کوئی بچہ نہیں بچا، سب بھوک سے مر رہے ہیں۔
مغربی اداکار اور انسانی حقوق کے کارکن سٹینلے ٹوچی نے اپنی کتاب "ذائقہ” میں لکھا کہ کھانا دیکھنا ایک خوشگوار احساس دیتا ہے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس بنیادی ضرورت سے محروم ہیں، تو یہ دردناک ہوتا ہے۔
غزہ کا ایک ڈاکٹر ایک بچے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم بھوکے ہیں، اور وہ اب بھی درد میں ہیں۔ یہ تصاویر ہر انسان کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اس بحران کو روکنے کے لیے کچھ کرے۔ لیکن صہیونی حکومت اور اس کے حامی ممالک کا رویہ بالکل مختلف ہے۔
صہیونی ریاست کا غیر انسانی چہرہ
صہیونی لیڈروں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ وہ بے گناہ فلسطینیوں پر بمباری کے ساتھ ساتھ بھوک کو بھی ہتھیار بنا رہے ہیں۔ ایتامر بن گیویر جیسے انتہا پسند وزراء کھلم کھلا کہتے ہیں کہ غزہ کے لوگوں کو بھوکا رہنا چاہیے۔
صہیونی فوج امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہی ہے، جبکہ دنیا بھر میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ لندن، برازیل، شکاگو اور نیویارک میں فلسطین کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ یونان میں صہیونی سیاحوں کے جہازوں کو روک دیا گیا، جبکہ بیلجیم میں دو صہیونی فوجیوں کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
اقوام متحدہ اور عالمی ردعمل
امریکی دباؤ کے باوجود، اقوام متحدہ کے ماہرین صہیونی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ فرانسسکا البانیز، اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر، نے غزہ کی حمایت جاری رکھی ہے۔ امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ طلیب نے صہیونی ریاست پر مکمل ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
مغربی لیڈروں کا منافقانہ رویہ
کچھ مغربی لیڈر اب صہیونی ریاست کی مذمت کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اتنی دیر تک خاموش کیوں تھے؟ کیئر سٹارمر جیسے لیڈر شروع سے ہی جانتے تھے کہ صہیونی ریاست کیا کر رہی ہے، لیکن برطانیہ نے اس کی حمایت جاری رکھی۔
امریکی صحافی میکس بلومن تھال کہتے ہیں کہ یہ لیڈر صرف اپنی شرمندگی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا یہ رویہ حقیقی ہمدردی نہیں ہے۔
آخری بات: یہ نسل کشی صرف غزہ تک محدود نہیں

مشہور خبریں۔

شام میں اگلے سال تک 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت

?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:     اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے

صیہونی ملٹری انٹیلی جنس کی بڑی خانہ جنگی کی وارننگ

?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:صیہونی ملٹری انٹیلی جنس شاخ نے تل ابیب میں ہمہ گیر

کیا یوکرین کی جنگ عالمی نظام کو تبدیل کرنے کا آخری قدم ہے؟

?️ 10 مئی 2022سچ خبریں: سعید ساسانیان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رمضان

مسلم دنیا کا اپنے دفاع کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق ناگزیر ہوچکا۔ مولانا فضل الرحمان

?️ 16 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) امیر جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان نے

واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی

?️ 12 اکتوبر 2025واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی

سعودی نظام اسرائیلی حکومت کی خدمت کرتا ہے: انصار اللہ

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے کہا

اس عید پر گلے لگانے کی اجازت نہیں ہو گی

?️ 8 مئی 2021پنجاب (سچ خبریں)وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات

شہباز شریف کی کمزور مخلوط حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

?️ 6 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نو منتخب وزیراعظم نے اقلیتی حکومت جوکہ مختلف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے