?️
سچ خبریں: 5 سال گزر جانے کے بعد بھی بیروت بندرگاہ کے خوفناک دھماکے کے واقعے کا انجام اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا۔ تحقیقات میں سب سے متنازعہ نکتہ ان عہدیداروں کا محاکمہ یا طلب نہ کیا جانا ہے جو شواہد کے مطابق اس دھماکے میں ملوث تھے۔
4 اگست 2020 کو شام 6:07 پر بیروت بندرگاہ پر ایک ایسا زبردست دھماکہ ہوا جیسے آتشزدہ زلزلہ آ گیا ہو۔ اس نے لا تعداد گھروں کو تباہ کر دیا اور متعدد خاندانوں کو غم و غصے میں چھوڑ دیا۔ 5 سال گزرنے کے بعد بھی اس سانحے کی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔
قانونی جھگڑوں کے بیچ بیروت دھماکے کی تحقیقات کا ازسرنو آغاز
بیروت دھماکے کی تحقیقات میں بار بار رکاوٹیں آنے کے بعد، جج طارق البیطار کے خلاف احتجاج کے باوجود، تحقیقات دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔ البیطار پر الزام ہے کہ وہ مغربی ممالک کے موقف کے حق میں فیصلے کر رہا ہے۔ لبنان کی عدالتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ البیطار کے پاس اس مقدمے کو چلانے کی قانونی صلاحیت نہیں ہے۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ البیطار نے انصاف اور سچائی تک پہنچنے میں تاخیر کی ہے، جس کی وجہ سے متاثرین کے خاندان غصے میں ہیں۔
متنازعہ نکات: ملوث عہدیداروں کا محاکمہ نہ ہونا
تحقیقات کا سب سے اہم تنازعہ یہ ہے کہ جن عہدیداروں کے بارے میں یقین ہو چکا ہے کہ وہ دھماکے میں ملوث تھے، انہیں عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔ کمیٹی نے دستاویزات پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ لبنان کے سابق وزیر انصاف اشرف ریفی کو بندرگاہ میں نائٹریٹ کے ذخیرے کے بارے میں معلوم تھا، لیکن انہیں طلب نہیں کیا گیا۔ اسی طرح، لبنان کے کسٹمز کے سربراہ ریمنڈ خوری کو 4 سال بعد طلب کیا گیا۔
بین الاقوامی نگرانی اور غفلت کے سوالات
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کو معلوم تھا کہ امونیم نائٹریٹ ایک خطرناک دھماکہ خیز مادہ ہے، پھر بھی انہوں نے اسے بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت کیوں دی؟ یونیفل کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج نے اس کی جانچ پڑتال کی تھی اور داخلے کی اجازت دی تھی۔
دستاویزی فلم "روایتِ حقیقت” نے کیا انکشاف کیا؟
المیادین نیٹ ورک کی دستاویزی فلم "روایتِ حقیقت” نے بیروت دھماکے کے کئی پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ کمیٹی نے اس فلم سے 120 دستاویزات اور حفاظتی معلومات اکٹھی کی ہیں۔ ان میں FBI اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحقیقات بھی شامل ہیں۔
2013 سے 2020 تک کیسے پھیلا خطرہ؟
2013 میں ایک جہاز "روسوس” جو 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ لے کر جارجیا سے موزمبیق جا رہا تھا، بیروت بندرگاہ میں پھنس گیا۔ 2014 میں لبنانی بحریہ نے اسے فوری طور پر بندرگاہ سے نکالنے کی سفارش کی، لیکن مالی مسائل کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ بعد میں اسے گودام نمبر 12 میں منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کے خطرات کے باوجود اسے نظرانداز کیا گیا۔
2018 میں لبنانی سیکیورٹی فورسز نے اس ذخیرے کو دریافت کیا اور چوری یا آگ لگنے کے خطرے کی اطلاع دی، لیکن کسی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 3 جون 2020 کو لبنان کے وزیراعظم حسان دیاب کو اس کے بارے میں بتایا گیا، لیکن انہیں یقین دلایا گیا کہ یہ صرف کھاد ہے اور خطرناک نہیں۔
4 اگست 2020: وہ دن جو کبھی نہیں بھلایا جائے گا
شام 5:30 پر گودام نمبر 12 میں آگ لگ گئی، جس کے بعد 6:07 پر ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے نے 220 سے زائد افراد کو ہلاک، 6500 سے زیادہ کو زخمی اور 3 لاکھ سے زیادہ کو بے گھر کر دیا۔ مالی نقصان 3 ارب ڈالر سے زیادہ اور معاشی نقصان 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
متاثرین کے خاندانوں کا غم اور انصاف کی تلاش
دھماکے کے بعد متاثرین کے خاندانوں نے ایک کمیٹی بنائی اور ابراہیم حطیط کو ترجمان مقرر کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی کمیٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے۔
29 ستمبر 2021: ایک اہم موڑ
29 ستمبر 2021 کو عدالت کے سامنے ایک بڑا احتجاج ہوا، جس میں کچھ گروہوں نے سیاسی نعروں کا استعمال کیا۔ ابراہیم حطیط نے اسے تحقیقات کے سیاسی ہونے کی کوشش قرار دیا اور احتجاج سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بعد میں انہوں نے جج البیطار سے پوچھا کہ تمام ذمہ داران کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ جج کا جواب تھا کہ اگر سب کو بلائیں گے تو ہم دو طرفہ دباؤ میں آ جائیں گے۔
کیا بیروت دھماکے کا معاوضہ دیا جائے گا؟
5 سال گزرنے کے بعد بھی متاثرین کو معاوضہ نہیں ملا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ صرف معاوضہ نہیں، بلکہ انصاف چاہتے ہیں۔ اگر تحقیقات میں ثابت ہو کہ یہ دھماکہ کسی تخریب کاری کا نتیجہ تھا، تو معاوضہ نہیں دیا جائے گا، لیکن اگر یہ ایک حادثہ تھا، تو متاثرین کو معاوضہ ملے گا۔
آخری بات: سچائی کب تک چھپی رہے گی؟
بیروت کا دھماکہ لبنان کے لیے ایک کھلا زخم ہے جو صرف سچائی اور انصاف سے ہی بھر سکتا ہے۔ 5 سال گزر چکے ہیں، لیکن انصاف کا انتظار جاری ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
’جو کچھ ہوا وہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر قبضے اور اس کی آزادی ختم کرنے کے مترادف ہے‘
?️ 15 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ججز ٹرانسفر و سنیارٹی کیس میں اسلام آباد
مئی
انصار اللہ: شام پر حملے کا مقصد اسلامی ممالک کو تقسیم کرنا ہے
?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے دمشق
جولائی
عالمی برادری حریت رہنمائوں اورکارکنوں کی رہائی کیلئے آواز بلند کرے ، حریت کانفرنس
?️ 10 اکتوبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
اکتوبر
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ جاری، اقوام متحدہ نے اہم رپورٹ جاری کردی
?️ 17 جولائی 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے رابطہ برائے انسانی امور (او سی
جولائی
صیہونی حکومت بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا شکار
?️ 27 اکتوبر 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کی فوج پر
اکتوبر
نادان لڑکی سے مقبول ترین اداکارہ تک بھارتی اداکارہ کا 40 سالہ سفر
?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: آج سے 40 سال قبل، 10 اگست 1984 کو، مادھوری
اگست
سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے والے ارکان اسمبلی کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصل
?️ 7 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف قومی
اپریل
’پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘ کے تحت کراچی کے مسائل کا حل نکالیں گے، بلاول بھٹو
?️ 11 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ
جنوری