اسرائیل نے لبنان پر حملے کیوں تیز کیے؟

لبنان

?️

سچ خبریں:صیہونی فضائی حملوں میں جنوبی اور مشرقی لبنان کے شہر صیدا اور بعلبک کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 39 افراد شہید و زخمی ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے حزب اللہ پر دباؤ بڑھانے اور علاقائی پیغام دینے کے لیے کیے گئے۔

صیہونی فوج نے گزشتہ جمعہ سے لبنان پر اپنے فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد شہید اور زخمی ہو گئے ہیں۔

صیہونی قابض افواج نے لبنان کے مختلف علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں جنوبی لبنان کے شہر صیدا کے قریب واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ عین الحلوہ اور مشرقی لبنان کے بقاع ریجن میں واقع شہر بعلبک شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی لبنان پر اسرائیل کے شدید حملے

گزشتہ روز سہ پہر ایک صیہونی ڈرون نے عین الحلوہ کیمپ کے ایک ذیلی علاقے میں واقع حطین محلے کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جس میں دو افراد شہید اور تین زخمی ہوئے۔ اسی طرح صیہونی جنگی طیاروں نے بعلبک شہر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق 10 افراد شہید اور 24 زخمی ہوئے۔

الجزیرہ کی نامہ نگار کاترین حنا نے جنوبی اور مشرقی لبنان پر صیہونی فضائی حملوں کو شدت اور جانی نقصان کے اعتبار سے غیر معمولی قرار دیا۔ الجزیرہ کے مطابق عین الحلوہ کیمپ کو نشانہ بنانا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی یہ کیمپ کئی بار صیہونی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ اسرائیل نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حماس کے زیر استعمال ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا، جبکہ حقیقت میں حملہ ایک فٹبال گراؤنڈ پر کیا گیا تھا جس میں 13 سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے۔

صیہونی امور کے تجزیہ کار مہند مصطفیٰ نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، چاہے وہ حزب اللہ کے خلاف ہوں یا فلسطینی گروہوں کے خلاف، بلکہ وہ لبنانی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

صیہونی اندازوں کے مطابق حزب اللہ مسلسل حملوں کے باوجود اب بھی مضبوط فوجی صلاحیت رکھتی ہے اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور محقق امین قموریہ نے کہا کہ صیہونی حملوں میں شدت کی ایک اہم وجہ حزب اللہ کے ساتھ جاری تصفیہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ایران سے متعلق علاقائی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ حزب اللہ اب بھی اس کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور حالیہ حملے حزب اللہ اور عین الحلوہ میں موجود حماس کے عناصر کے لیے ایک واضح انتباہی پیغام ہیں تاکہ اسرائیل اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔

دوسری جانب العربی الجدید نے حماس کی قیادت کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کو بھی لبنان پر جاری حملوں کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس ذریعے کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا مقام حماس کا مرکز نہیں بلکہ عین الحلوہ میں مشترکہ سیکیورٹی فورسز کا ہیڈکوارٹر تھا۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر حملہ، جہاں بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہیں، ایک خطرناک اقدام اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے یہ حملے خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش ہیں۔

حماس نے صیہونی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے محض بہانے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ تحریک نے اسرائیل کو ان حملوں کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عالمی برادری، عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر صیہونی حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

فلسطینی جہاد اسلامی تحریک نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عین الحلوہ کیمپ پر حملہ لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے خلاف ایک خطرناک اضافہ ہے۔

مزید پڑھیں:امریکہ اور اسرائیل کا لبنان اور شام کے ذریعے خطے کے لیے پریشان کن خواب

یہ حملے 27 نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی مسلسل خلاف ورزی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جو لبنان کی خودمختاری کے خلاف صیہونی اقدامات کو ظاہر کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

فلسطین دنیا میں افکار عمومی کا پہلا مسئلہ

?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں:آزاد قوموں اور بیدار ضمیروں کے درمیان فلسطین کے مظلوم عوام

سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی؛پوری دنیا میں شدید غم و غصہ

?️ 30 جون 2023سچ خبریں: سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے کے واقعے

سعودی جیلوں میں قید فلسطینی شہری

?️ 19 جون 2021سچ خبریں:تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت 160 فلسطینی سعودی عرب

فلسطینی قوم پر اسرائیلی مظالم اور مسلم دنیا کی بے حسی

?️ 11 مئی 2021(سچ خبریں) دنیا کے بہت سارے اسلامی ممالک اگر چہ بظاہر اسلامی

سعودی ، برطانوی اور قطری حکام کی سوڈان کے بارے میں مشاورت

?️ 24 اپریل 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے عہدیدار

’موت کو قریب سے دیکھا‘، عدنان صدیقی اور مورو نے طیارے کے حادثے سے بچنے کی داستان سنادی

?️ 26 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکار عدنان صدیقی اور سوشل میڈیا اسٹار تیمور

صورتحال کے مطابق لاک ڈاؤن کا فیصلہ کریں گے: اسد عمر

?️ 23 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اور سربراہ این سی او سی اسد عمر

فیدان: ترکی اور امریکہ کی اصل تشویش اسرائیل کی جانب سے شام کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہے

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: ترکی کے وزیر خارجہ نے شام کی صورتحال کے بارے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے