نیتن یاہو کی لگام کس کے ہاتھ میں ہے؟

صیہونی حکومت

?️

سچ خبریں:اس تجزیاتی رپورٹ میں صیہونی حکومت کی داخلی و خارجی پالیسی، لبنان پر حملوں کے مقاصد، ایران کے ردعمل، اور صہیونی حکومت کی اقتصادی و عسکری حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

صیہونی حکومت اپنے داخلی سیاسی ڈھانچے کے استحکام کے لیے ہمیشہ اپنی اندرونی مشکلات کو خارجہ پالیسی اور بیرونی بحرانوں کی طرف منتقل کرنے کی حکمت عملی استعمال کرتی ہے۔

صہیونی حکومت نے گزشتہ روز ایک بار پھر بیروت کے ضاحیہ علاقے پر حملہ کیا۔ اس سے قبل بھی جب صہیونیوں نے ضاحیہ میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا تھا تو اس کے چند گھنٹے بعد ایران نے آپریشن نصر کے تحت مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں پر میزائل حملے کیے تھے۔

ایران نے اس کارروائی سے قبل واضح طور پر دھمکی دی تھی کہ اگر ضاحیہ پر حملہ کیا گیا تو شمالی فلسطین میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تل ابیب نے ضاحیہ پر حملے کے بعد جنوبی لبنان میں کشیدگی بڑھانے کے ارادے کا بھی اعلان کیا تھا۔

صیہونی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے اس پالیسی کی تصدیق کی جس کا مطلب یہ تھا کہ صیہونی ان حملوں پر اکتفا نہیں کرے گا۔

صہیونی حکومت کے اس حملے کے اسٹریٹجک اور عملی اہداف متعدد ہیں۔

1۔ ایک اہم ہدف صیہونی کے لیے اپنی آزادانہ کارروائی کی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔ صیہونی دعویٰ کرتے ہیں کہ کم اسٹریٹجک گہرائی کے باعث انہیں یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی خطرے کو فلسطین پہنچنے سے پہلے ہی دور سے ختم کر دیں۔ اس حکمت عملی کا مرکزی محور لبنان ہے۔ غزہ پہلے ہی شدید کمزور اور محاصرے میں ہے اور اس کا بڑا حصہ صیہونی قبضے میں ہے۔ شام اس محور سے باہر ہو چکا ہے۔ اس لیے صیہونی کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا خطرہ لبنان ہے۔

ایران جنگ نے ظاہر کیا کہ لبنانی مزاحمتی تحریک مکمل طور پر کمزور نہیں ہوئی اور ۶۶ روزہ جنگ، شام کا زوال اور طویل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی اسے ختم نہ کر سکیں، جو تل ابیب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

2۔ دوسرا ہدف داخلی سیاست کو کنٹرول کرنا ہے۔ صیہونی اپنی داخلی مشکلات کو ہمیشہ خارجی بحرانوں کی طرف منتقل کر کے اندرونی اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سات اکتوبر کے واقعات نے داخلی بحران کو مزید بڑھا دیا جس کے بعد تل ابیب نے بیرونی محاذ کو فعال کیا۔

3۔ تیسرا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ صیہونی ایران اور مزاحمتی محاذ پر براہ راست حملے کر سکتا ہے، لیکن مسلسل اقتصادی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ کردار امریکی پابندیوں اور محاصرے کے ذریعے ادا کیا جاتا ہے۔

 صیہونی نقطۂ نظر کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے سے پابندیوں میں نرمی مزاحمتی قوت کو تقویت دے سکتی ہے، اسی لیے تل ابیب ہمیشہ ایسے معاہدوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

4۔ چوتھا ہدف لبنان کے جنوب پر قبضہ اور توانائی کے وسائل تک رسائی ہے۔ صیہونی بحری گیس اور تیل کے ذخائر سے سالانہ ۱۵ سے ۲۰ ارب ڈالر آمدنی حاصل کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی خود کو علاقائی توانائی مرکز بنانے کی کوشش میں ہے۔

5۔ پانچواں پہلو ایران کے جوابی حملوں کی نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے ایران نے وعدہ صادق کے ذریعے سرکاری اہداف پر حملوں کے جواب دینے کا اصول قائم کیا تھا، جبکہ اب آپریشن نصر کے ذریعے مزاحمتی گروہوں پر حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔ یہ نیا ماڈل صیہونی کے لیے زیادہ پیچیدہ چیلنج ہے کیونکہ یہ صرف ریاستی اہداف نہیں بلکہ مزاحمتی جغرافیہ کو بھی نشانہ بناتا ہے۔

6۔ چھٹا پہلو یہ ہے کہ صیہونی ایسے کسی معاہدے میں شامل نہیں جس میں ایران اور امریکہ مرکزی فریق ہوں۔ یہ صورتحال تل ابیب کے لیے اسٹریٹجک کمزوری سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہ خطے میں مرکزی کھلاڑی ہونے کے باوجود مذاکراتی میز پر موجود نہیں۔

7۔ ساتواں نکتہ یہ ہے کہ لبنان اور عراق میں امریکی و صیہونی سرگرمیاں مزاحمتی محور کے اسٹریٹجک ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں تاکہ مستقبل میں ایک نئی جنگ کے لیے میدان ہموار کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں ایران کے لیے ممکنہ جوابی حکمت عملی پر بھی بحث کی گئی ہے۔ تجزیے کے مطابق صیہونی کے اہم اقتصادی مراکز، خصوصاً حیفا اور اشدود کی ریفائنریز، جنگی مشین کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا نقصان صیہونی فوجی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے کیونکہ ایندھن کی پیداوار اور فراہمی براہ راست انہی پر منحصر ہے۔

مشہور خبریں۔

کورونا ویکسین پر ہونے والی تنقید کا فواد چوہدری نے دیا جواب

?️ 23 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ویکسین کے

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز، جسٹس امین کا ازخود نوٹس سے متعلق فیصلہ مسترد کردیا

?️ 31 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور

صہیونی میڈیا میں بن سلمان کا مضحکہ خیز کارٹون شائع

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:ایک عبرانی اخبار نے اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر خریدنے پر سعودی

صنعاء نے واشنگٹن کو اپنی طاقت کیسے دکھائی؟

?️ 5 فروری 2024سچ خبریں:یمن فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے قابض حکومت کے ساتھ

سام سنگ نے فون گلیکسی زی فولڈ 3 کی قیمت کا اعلان کردیا

?️ 15 اگست 2021سیئول(سچ خبریں) سام سنگ نے پاکستانی صارفین کے لیے اپنے پہلے انڈر

شام کے سرحد ی اڈ ے پر امریکی فوجی ساز و سامان جاتا ہوا

?️ 27 جولائی 2022سچ خبریں:    ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ کچھ امریکی فوجی

شہریار منور پنجگانہ نماز کے پابند کیسے بنے؟

?️ 20 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستانی خوبرو اداکار، ہدایتکار و رائٹر شہریار منور پنجگانہ نماز

میں جلدی ہی سعودی عرب میں ہوں گا:صیہونی ربی

?️ 11 اپریل 2021سچ خبریں:ایک صیہونی ربی نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی سعودی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے