ٹرمپ کا جنون دنیا کو مشکلات میں ڈال رہا ہے: نیویارک ٹائمز

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے کالم نگاروں نے ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں کو جنون قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنیں گے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اشارہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات عقلانیت پر مبنی نہیں ہیں اور ان کا رویہ جنون آمیز ہے، انہوں نے لکھا کہ یہ فیصلے پوری دنیا کو مشکلات میں ڈال دیں گے۔

نیویارک ٹائمز نے دو امریکی قلمکاروں کے لکھے ہوئے تجزیوں میں اس ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کے اعلان سے متعلق پالیسیوں اور امریکی انتظامیہ کے طرز عمل کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ فیصلے امریکہ کو موجودہ عالمی نظام کو ختم کرنے کی طرف لے جا رہے ہیں، یہ وہ نظام ہے جس کی تشکیل میں خود اس ملک نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کردار ادا کیا تھا۔

یہ تجزیے جو نکولا کرسٹوف اور جمال بوی نے اس اخبار کے دو الگ کالموں میں تحریر کیے ہیں، انہوں نے تاکید کی ہے کہ امریکہ ایک طاغوتی ریاست بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

کرسٹوف نے اپنے تجزیے میں اس جنگ کے قانونی اور انسانی نتائج پر زور دیا ہے اور بوی نے امریکی انتظامیہ کی کمانڈ اور انتظامی نوعیت اور اس میں موجود بدعنوانیوں پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس سوال کا جائزہ لیا ہے کہ کیا ٹرمپ کے فیصلے کسی منصوبہ بند اور درست حکمت عملی پر مبنی ہیں یا یہ مختصر مدت اور جذباتی ردعمل ہیں؟

کرسٹوف نے اپنے تجزیہ میں تاکید کی کہ امریکہ کے ایران پر حملے کا مطلب اس ملک کا ان بنیادوں سے دستبرداری ہے جنہیں واشنگٹن کئی دہائیوں سے اپنے جنگی قوانین میں نافذ العمل ہونے کا دعویٰ کرتا رہا تھا۔ ان قوانین میں جنگ کے دوران شہریوں اور غیر جنگجوؤں کا تحفظ اور شہری اور معاشی ڈھانچے کی حفاظت شامل ہے۔

انہوں نے ایران کے ایک لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے نتیجے میں 175 طالبات شہید ہو گئیں، وضاحت کی کہ عالمی برادری نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جنیوا معاہدوں کے الحاقی پروٹوکولز کے ذریعے جنگوں کے ذریعے صنعتی وحشت کو روکنے کی کوشش کی اور شہری ڈھانچے بشمول پانی صاف کرنے کے انفراسٹرکچر پر حملے کو ممنوع قرار دیا۔

نیویارک ٹائمز نے مزید کہا کہ یہ بنیادیں، یقیناً حالیہ برسوں کے متعدد تنازعات بشمول یوکرین، غزہ اور سوڈان کی جنگ میں شہریوں پر حملوں کی وجہ سے مزید دھندلی ہو گئی ہیں۔

کرسٹوف نے ایران پر امریکی حملے کی غیر قانونی بنیادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ نے یہ حملہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے اجازت نہیں لی تھی اور یہ حملہ فوری خود دفاع کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔

اس رپورٹ نے مزید کہا کہ میناب کے لڑکیوں کے اسکول پر حملہ اور 175 طالبات کا قتل ہونا ان شکوک و شبہات کو بڑھا دیا ہے کہ آیا ان تنازعات میں جنگی جرائم ہو رہے ہیں، خاص طور پر جب امریکیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ حملہ پرانی اور غیر دقیق معلومات کی بنیاد پر کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے مزید کہا کہ دیگر رپورٹس مختلف علاقوں میں واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ سمیت شہری انفراسٹرکچر پر متعدد حملوں اور گھروں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں وسیع پیمانے پر نقصانات کے وقوع پذیر ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

کرسٹوف نے تاکید کی کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی گفتگو نے اس حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے ایک جگہ زور دیا کہ وہ حملے اس طرح کرے گا کہ ایرانی یا کوئی بھی دوسری فریق انہیں جبران نہ کر سکے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شہری ڈھانچے پر حملے نے وسیع پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ یورپی رہنما ان حملوں کو جرات مندانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ جنگ ممکنہ طور پر اپنے سیاسی اہداف حاصل نہیں کر پائے گی، کیونکہ یہ نہ صرف ایران میں اقتدار کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہوگی بلکہ ممکنہ طور پر اسے مزید مضبوط کرے گی۔

جمال بوی نے ایران پر امریکی حملے کو ایک مختلف نقطہ نظر سے جانچا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ٹرمپ کے رویوں اور فیصلوں کی تشکیل کسی طویل مدتی حکمت عملی کے منصوبے کے تحت ہوتی ہے یا یہ سیاسی افراتفری کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں تاکید کی کہ اس جنون میں کوئی منظم طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

انہوں نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ٹرمپ تیز رفتار کامیابیوں کے حصول کے خواہاں ہیں اور اپنے اقدامات کے نتائج پر غور نہیں کرتے، مزید کہا کہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ یہ جنگ تیزی سے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

بوی نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ٹرمپ طویل مدتی سوچ رکھتا ہے، تاکید کی کہ مسئلہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کا انتظامی طریقہ کار غلط ہے اور وائٹ ہاؤس میں صدر ایسے مشیروں سے گھرے ہیں جن کا واحد محرک صدر کو خوش رکھنا ہے۔ وہ ان کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی وہ درست معلومات جو صدر کے تصورات کے خلاف ہو سکتی ہیں، ان تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ اپنے رویوں کو قیاس آرائیوں پر مرتب کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ اپنی عقلانیت سے زیادہ اپنی جبلت پر عمل کرتے ہیں۔

بوی نے وائٹ ہاؤس میں چاپلوسی کے کلچر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ وائٹ ہاؤس کے اہلکار صدر کی تعریف میں مبالغہ آرائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا منفی اثر جنگوں سمیت بڑے بحرانوں کے انتظام پر پڑتا ہے۔

تجزیہ کار نے واضح کیا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کے پاس اپنے فیصلوں کے پیچھے کوئی خفیہ منصوبہ ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ان جنونی اقدامات میں کوئی ڈھانچہ اور طریقہ کار موجود نہیں ہے، کیونکہ صدر چوتھے درجے کی عقلانیت اور اعلیٰ درجے کے مزاجی اقدامات کا حامل فرد ہے جو واقعات کے ساتھ اس طرح تعامل کرتا ہے گویا وہ ٹیلی ویژن پروگرام میں ہو اور وہ خود بھی سنیما کا سپر اسٹار ہو۔

انہوں نے اس تجزیہ کے آخر میں واضح کیا کہ صدر کے فیصلے محض ایک سیاسی شو کے سوا کچھ نہیں ہیں اور یہ رویے دنیا پر انتہائی خطرناک نتائج مرتب کریں گے۔ ٹرمپ نے فی الحال اپنے جرات مندانہ فیصلے کر لیے ہیں اور ہمیں ان فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

کرسٹوف نے بھی اپنے تجزیہ کے آخر میں لکھا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ افروزی کے نتائج سے پوری انسانیت نقصان اٹھائے گی۔

الجزیرہ نے اس تجزیہ کے آخر میں لکھا کہ نیویارک ٹائمز کے دونوں مضامین اس نکتے پر متفق ہیں کہ امریکی انتظامیہ کے موجودہ فیصلے نہ صرف جنگ کے عمل کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ امریکہ کے چہرے اور موجودہ عالمی نظام کو بھی سوالیہ نشان بنا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ہواوے کی نووا سیریز کے 4 فونز متعارف

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی نووا نے اپنی مقبول

آرمی ایکٹ:اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

?️ 18 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں

فون ڈیر لائن: یورپ کا مشترکہ ہدف، جنگ کے پائیدار خاتمے کے لیے مذاکرات

?️ 24 اپریل 2026سچ خبریں: یورپی کمیشن کی سربراہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان

وفاقی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے: فواد چوہدری

?️ 19 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے

غزہ میں زخمیوں کی غیر انسانی حالت

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں:جب کہ غزہ کے شہری مراکز پر قابض حکومت کے وحشیانہ

وزارت داخلہ غزہ نے اپنے شہریوں کو امریکی امدادی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی تاکید کی

?️ 21 اگست 2025وزارت داخلہ غزہ نے اپنے شہریوں کو امریکی امدادی اداروں کے ساتھ

وفاق کا نیب ترامیم کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

?️ 6 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے قومی احتساب بیورو ترامیم کیس

غزہ کی یہ حالت کیوں ہے؟عالمی چرچ کونسل کی زبانی

?️ 12 جون 2024سچ خبریں: عالمی چرچ کونسل نے غزہ میں امن کی بحالی اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے