?️
سچ خبریں:اگرچہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے درمیان بعض اختلافات موجود ہیں، لیکن اس اہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اختلافات زیادہ تر طریقۂ کار اور عملی حکمت عملی سے متعلق ہیں، نہ کہ بنیادی اور نظریاتی نوعیت کے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کے درمیان اختلافات کے باوجود دونوں فریق کئی بنیادی مفادات میں شریک ہیں۔ تجزیاتی رپورٹ میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران، جنگ، بحران کے انتظام اور علاقائی حکمت عملی سے متعلق اختلافات اور مشترکات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کو محض ذاتی کشیدگی یا سیاسی ترجیحات کے فرق سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ اختلافات ایک ساختی حقیقت کے تناظر میں قابل فہم ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت صہیونی حکومت صرف ایک معمولی اتحادی نہیں بلکہ ایک سلامتی شراکت دار اور خطے میں واشنگٹن کے مطلوبہ توازن کو نافذ کرنے والے عملی بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔
تاہم اس حیثیت کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں فریقوں کے اہداف، وقت کے تعین اور عملی طریقوں میں مکمل یکسانیت موجود ہو۔ اسی تناظر میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اتحاد کے خاتمے کی علامت نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بحران سے فائدہ اٹھانے، ایران پر دباؤ بڑھانے اور خطے میں عدم استحکام کی مطلوبہ حد کے بارے میں دونوں کے نقطۂ نظر مختلف ہیں۔
ایران جنگ کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ صہیونی حکومت نے، اگرچہ اپنی خواہش کے برخلاف، ایک مرحلے پر کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا۔ تاہم یہ صورت حال تل ابیب کی تزویراتی سوچ میں تبدیلی کی بجائے میدان کی عارضی ضروریات اور بحران کے انتظام کے حوالے سے امریکی ترجیحات کا نتیجہ تھی۔
بعد ازاں واضح ہو گیا کہ مذاکرات کا راستہ لازماً واشنگٹن کے زیادہ سے زیادہ اہداف کے حصول کی ضمانت نہیں دیتا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے عملی رجحانات میں فرق زیادہ نمایاں ہو گیا۔ تل ابیب نے کوشش کی کہ اطرافی محاذوں کو فعال رکھ کر اور کم کشیدہ ماحول کو مستحکم ہونے سے روک کر دباؤ میں کمی کی قیمت بڑھائی جائے۔
اختلافات؛ طریقۂ کار سے حکمت عملی تک
حزب اللہ پر دباؤ میں اضافے کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد ایران کو ایک بار پھر ردعمل یا بتدریج دباؤ قبول کرنے کے درمیان انتخاب پر مجبور کرنا تھا۔ اسی دوران جنوبی ایران کے قریب امریکہ کی بعض محدود لیکن اہم سرگرمیوں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ واشنگٹن نے سخت دباؤ کے اختیار کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔
تاہم بنیادی فرق یہ ہے کہ امریکہ دباؤ کو قابو میں رکھنے اور مذاکراتی امکانات کے تناظر میں دیکھتا ہے، جبکہ صہیونی حکومت اسے بحران کو جاری رکھنے اور استحکام کو روکنے کے تناظر میں سمجھتی ہے۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کی سیاسی بقا ایک دوسرے کے برعکس راستوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے ایک فریق معاہدے کی طرف مائل ہے جبکہ دوسرا جنگ کے تسلسل کو ترجیح دیتا ہے۔
تل ابیب اور واشنگٹن بحران کے انتظام پر متفق کیوں نہیں؟
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی اختلافات کو تین باہم مربوط سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی سطح امریکہ کی علاقائی حکمت عملی میں صہیونی حکومت کے کردار کی مختلف تشریح سے متعلق ہے۔ دوسری سطح بحران کے انتظام اور فوجی طاقت کے استعمال کے طریقے سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ تیسری سطح دونوں رہنماؤں کی سیاسی بقا سے وابستہ ہے۔
ان تینوں عوامل نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس میں بنیادی اتحاد برقرار رہنے کے باوجود عملی اور سیاسی ہم آہنگی کو محدود کشیدگیوں کا سامنا ہے۔
پہلی سطح پر امریکہ صہیونی حکومت کو علاقائی توازن برقرار رکھنے اور جغرافیائی سیاسی حریفوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک سلامتی اثاثے کے طور پر دیکھتا ہے، لیکن اس اثاثے کے استعمال کے طریقے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ، ایران پر دباؤ کے اصول کو قبول کرنے کے باوجود، ایسے دباؤ کو ترجیح دیتے ہیں جو قابو میں رہے اور مذاکراتی عمل میں استعمال ہو سکے۔
اس سوچ کے مطابق کشیدگی اسی وقت مفید ہے جب وہ رعایتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنے، نہ کہ ایسی وسیع اور مہنگی جنگ میں تبدیل ہو جائے جس پر قابو پانا مشکل ہو۔
اس کے برعکس نیتن یاہو صہیونی حکومت کو محض توازن قائم رکھنے کا آلہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک ایسے کردار کے طور پر دیکھتے ہیں جو مسلسل بحران پیدا کر کے ایران کے اردگرد کے سلامتی ماحول کو غیر مستحکم رکھے اور کسی بھی سیاسی عمل کو تہران پر موجود ساختی دباؤ کم کرنے سے روکے۔
اسی وجہ سے جو دباؤ واشنگٹن کے لیے قابل انتظام ہے، وہ تل ابیب کے نزدیک اکثر ناکافی تصور ہوتا ہے اور اسے مزید بڑھانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
دوسری سطح پر جنگ اور بحران کے کردار کے بارے میں اختلاف زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ کے نزدیک فوجی دھمکی بذات خود مقصد نہیں بلکہ مخالف فریق کو پسپائی یا معاہدے پر آمادہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ طاقت کے مظاہرے، محدود کارروائیوں اور مرکب دباؤ کے ذریعے مخالف کے رویے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں داخل ہوں۔
لیکن نیتن یاہو، خصوصاً ایسے حالات میں جب بحران کا تسلسل ان کی حکومت کی بقا کا حصہ بن چکا ہو، بحران کو صرف دباؤ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مطلوبہ سیاسی و سلامتی ماحول کے طور پر دیکھتے ہیں جو اندرونی خطرات کو مؤخر کرنے اور حکمران اتحاد کو متحد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اسی لیے جب بھی سفارتی راستے یا بحران پر قابو پانے کے اقدامات نسبتاً استحکام کی طرف بڑھتے ہیں، صہیونی حکومت اطرافی محاذوں کو فعال کرنے، محدود لیکن اشتعال انگیز حملوں یا عدم استحکام کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ حالات دوبارہ غیر مستحکم ہو جائیں۔
یہیں ٹرمپ کے معاملہ فہمی پر مبنی نقطۂ نظر اور نیتن یاہو کے بحران پر مبنی نقطۂ نظر کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جاتی ہے۔
آخر میں سیاسی بقا کا مسئلہ سب سے اہم اختلافی عنصر بن جاتا ہے۔ نیتن یاہو ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ان کی سیاسی بقا پہلے سے کہیں زیادہ سلامتی کے ماحول، اندرونی سیاسی تنازعات کی واپسی میں تاخیر اور ہنگامی حالات میں قیادت کے تاثر کو برقرار رکھنے پر منحصر ہو گئی ہے۔
دوسرے الفاظ میں ان کے لیے بحران صرف خارجہ پالیسی کا آلہ نہیں بلکہ داخلی سطح پر طاقت کے تسلسل کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
اس کے برعکس ٹرمپ علاقائی معاملات کو بنیادی طور پر امریکی داخلی سیاست کے نفع و نقصان کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مہنگی جنگوں میں الجھے بغیر بھی دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے اور مخالف فریق سے رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو نیتن یاہو کے مطلوبہ نمونے کی مکمل حمایت ٹرمپ کے لیے ایک ایسے مہنگے میدان میں داخل ہونے کے مترادف ہو سکتی ہے جس سے انہیں داخلی سطح پر واضح فائدہ حاصل نہ ہو۔
لہٰذا موجودہ اختلاف ایران کے بارے میں دشمنی کے بنیادی تصور پر نہیں بلکہ اس دشمنی سے فائدہ اٹھانے کے طریقے پر ہے۔ ایک فریق دباؤ کے ذریعے قابو اور مذاکرات چاہتا ہے جبکہ دوسرا بحران کے تسلسل کو سلامتی اور سیاسی ضرورت سمجھتا ہے۔
نتیجہ
امریکہ اور صہیونی حکومت کے درمیان اختلافات کے باوجود یہ حقیقت برقرار ہے کہ دونوں فریق متعدد معاملات میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ موجودہ مرحلے میں ایران سے متعلق جنگ کا مسئلہ دونوں کے درمیان اہم ترین عملی اختلافات میں شمار ہوتا ہے۔
امریکی صدر طویل جنگ کو اپنی ذاتی سیاسی ترجیحات اور واشنگٹن کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب صہیونی حکومت جنگ کے خاتمے کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی نظام کے خلاف اپنے طویل المدتی اہداف کی ناکامی تصور کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
وائٹ ہاؤس کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے نئی قومی سلامتی حکمت عملی جاری کی، جس
دسمبر
ٹرمپ: غیر ملکی کمپنیوں کو امریکی امیگریشن قوانین کا احترام کرنا چاہیے
?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنڈائی فیکٹری پر امیگریشن افسران
ستمبر
امریکی صدر ٹرمپ کا روس کے کامیاب ایٹمی میزائل تجربے پر محتاط ردعمل
?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی
اکتوبر
خوشی ہوتی ہے کہ خود کو پاکستانی کہنے کے قابل ہیں: مہوش حیات
?️ 24 مارچ 2021کراچی ( سچ خبریں) پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات اداکارہ نے
مارچ
ٹرمپ کا پوٹن کے لیے الاسکا میں غیرمتوقع اقدام
?️ 18 اگست 2025ایک مطلع ذریعے نے انکشاف کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا
اگست
بحیرہ احمر میں کیا ہو رہا ہے؟
?️ 19 دسمبر 2023سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے یمنی مسلح افواج کی دھمکیوں کے بعد
دسمبر
میدان جنگ میں ٹرمپ حکومت کا زوال
?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: افغان محقق اور تجزیہ کار سید احمد موسوی مبلغ نے
مارچ
بین گوئر؛ سلامتی پیدا کرنے کے وعدے سے لے کر افراتفری اور بدنظمی کی ترسیل تک
?️ 8 جون 2025سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر جرائم کے تسلسل اور
جون