?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق بیانات اور جنگی پالیسیوں پر تنقید بڑھ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے اسٹریٹجک فریب قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر اسے متضاد پالیسیوں اور گمراہ کن بیانیے سے جوڑتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق بیانات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسے بیانات دیتے ہیں جو حقیقت سے خاصا فاصلہ رکھتے ہیں۔
عرب ویب سائٹ العربی الجدید میں علاء البحار کے ایک تجزیہ میں اس موضوع پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے جس میں ٹرمپ کے تین اہم دعوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی میڈیا کے بعض حلقوں نے ٹرمپ پر ایران کے معاملے میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے، یہاں تک کہ کچھ مبصرین نے ان کی ذہنی و نفسیاتی حالت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹرمپ جان بوجھ کر غلط بیانی کرتے ہیں یا یہ ایک اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ بعض ماہرین کے مطابق جنگی سیاست میں فریب اور نفسیاتی حربے عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
پہلا دعویٰ: توانائی کی منڈی اور بیانات کا اثر
تجزیہ کے مطابق پہلا معاملہ عالمی توانائی کی منڈی سے متعلق ہے۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بعض اوقات اپنے بیانات میں اس انداز سے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
کچھ میڈیا اداروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکی انتظامیہ مذاکرات کے حوالے سے ایسی خبریں پھیلاتی ہے جن کا مقصد عالمی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر مارچ 2026 میں ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ وہ میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے، جن میں اسلام آباد میں خفیہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اس تجزیے کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد جب برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو امریکی بیانات کا مقصد ممکنہ طور پر منڈی کو پرسکون دکھانا اور قیمتوں میں کمی لانا تھا۔
دوسرا دعویٰ: ایران پر حملوں کے نتائج
تجزیہ میں دوسرا نکتہ ایران پر حملوں کے نتائج سے متعلق ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق بعض بیانات میں یہ تاثر دیا گیا کہ ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات اور میدان جنگ کی صورتحال سے ظاہر ہوا کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیت اور دفاعی قوت کو بڑی حد تک برقرار رکھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں نے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی اور تجارت پر نمایاں اثر ڈالا۔
تیسرا دعویٰ: خود کو امن پسند ظاہر کرنا
تیسرا موضوع ٹرمپ کی اس شبیہ سے متعلق ہے جس میں وہ خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تجزیہ کار کے مطابق امریکی میڈیا کے کچھ حلقے ٹرمپ کی فوجی کارروائیوں کو خطے میں پائیدار امن کے حصول کی کوشش کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف وہ خود کو امن کا حامی قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ایران سمیت مختلف علاقوں میں کشیدگی اور جنگی اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی، جبکہ یوکرین کے ساتھ بڑے دفاعی معاہدے کیے گئے۔
مجموعی تجزیہ
تجزیہ کے اختتام پر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ان تضادات سے امریکی پالیسی میں ایک قسم کی بے سمتی اور ابہام ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ کی حکمت عملی میں ایسے عناصر موجود ہیں جو بیک وقت مختلف اور بعض اوقات متضاد اہداف کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
کیا عالمی طاقتیں یمنی افواج کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں؟صیہونی اخبار کی رپورٹ
?️ 5 مارچ 2024سچ خبریں: ایک صیہونی اخبار نے لکھا ہے کہ دنیا کی ترقی
مارچ
پریانتھا کمارا قتل کیس:عدالت نے پہلے ملزم کو سزا سنا دی
?️ 21 جنوری 2022گوجرانولہ (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پریانتھا کماراقتل کیس
جنوری
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اقدار کا خون کیا ہے: بزدار
?️ 15 اگست 2021لاہور (سچ خبریں)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ دنیا میں
اگست
وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کے 4 روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے
?️ 18 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف برطانیہ کے 4 روزہ دورے پر
ستمبر
5 اگست کے بھارتی اقدامات کشمیریوں کو بے اختیار بنانے کی کوشش ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ
?️ 5 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ
اگست
فرانسیسی حکومت کی توانائی کے شعبے کے ہڑتال کرنے والوں کو طاقت کے استعمال کی دھمکی
?️ 15 اکتوبر 2022سچ خبریں:فرانسیسی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ملک میں
اکتوبر
مردان: نامعلوم افراد کا حملہ، پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار زخمی
?️ 5 مارچ 2024 مردان: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے پیر
مارچ
امریکہ اور یو اے ای کے تعلقات میں درار
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں بائیڈن کی
مارچ