?️
اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی امین نے رحیم یار خان میں مندر کی توڑ پھوڑ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔اس موقع پر آئی جی پنجاب،چیف سیکرٹری، ایڈیشنل،ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب انعام غنی اورچیف سیکرٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا مندرپرحملہ ہوا،انتظامیہ اورپولیس کیاکر رہی تھی، جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اےسی اوراےایس پی موقع پرموجودتھے، انتظامیہ کی ترجیح مندرکےآس پاس 70ہندوگھروں کاتحفظ تھا۔ چیف جسٹس نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈی پی او، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کام نہیں کر سکتے تو ہٹا دیں۔
جس کے جواب میں آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے مندرکی توڑ پھوڑ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزا ر احمد نے ریما رکس دئیے کہ پولیس نے 8سالہ بچے کو گرفتار کرکے اس کا جوڈیشل ریمانڈ لیا، کیا ایس یچ او کو علم نہیں تھا کہ جس کوانہوں نے گرفتارکیا وہ بچہ ہے ،8سالہ بچے کو مذاہب کاکیاپتہ؟ ۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ جس بچے کو گرفتار کیا گیا اس کو ایس ایچ او بھی ضمانت پر رہا کرسکتا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بچے کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا اورسکیورٹی بھی دی ہے، واقعے کے بعد پولیس افسر پاکستان ہندو کاونسل رہنما رمیش کمارسے رابطے میں تھا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ جس ایس ایچ او نے بچے کو گرفتار کیا اس کو نوکری سے فارغ کردینا چاہئیے جس پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو معطل کردیں گے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پولیس والے کو معطل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،معطلی کے بعد صرف کمائی بند ہو جاتی ہے وہ سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انتظامیہ کوفارغ کریں وہ صرف زندگی انجوائےکررہے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے آئی جی سےاستفسار کیا کیا کوئی گرفتاری کی گئی؟ آئی جی پنجاب نے بتایا ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا وزیر اعظم نےبھی معاملےکانوٹس لےلیاہے، جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے پولیس اپنی ذمہ داری اداکرنےمیں ناکام ہوئی، پولیس ملزمان کی ضمانت اور صلح کروائے گی اور سرکاری پیسے سےمندر کی تعمیر ہو گی۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا واقعےکو3 دن ہوگئے ایک بندہ پکڑا نہیں گیا ، واقعے پرپولیس کی ندامت دیکھ کرلگتا ہے ان میں جوش ولولہ نہیں، قابل افسر ہوتے تو اب تک یہ معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے مندر حملہ کیس کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندو کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کامندر گرا دیاسوچیں ان کے دل پر کیا گزری ہو گی، سوچیں مسجدگرادی جاتی تومسلمانوں کاکیا ردعمل ہوتا۔ اس واقعہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، پولیس نے مساوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کیا ۔بیوروکریسی صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہی ہے۔ جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ دنیابھر کی پارلیمنٹس واقعےپر تشویش کااظہارکر رہی ہیں، اقلیتوں کوتحفظ کااحساس ہونا چاہئیے، جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا بے لگام سوشل میڈیامسئلےکی بنیادی وجہ ہے، عبدالرزاق سومرونامی شخص نےسوشل میڈیا پرپوسٹ لگائی، گزشتہ محرم میں کافی لوگوں کوسوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سےگرفتار کیا۔
چیف جسٹس نے شر پسندی پر اُکسانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا اور مندر کی بحالی کے اخراجات بھی ملزمان سے وصول کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور رحیم یار خان کے متاثرہ علاقے میں قیام امن کے لیے ویلیج کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔
عدالت نے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔ جس کے بعد رحیم یارخان میں مندر کی توڑپھوڑ سے متعلق کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مندر واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس چیئرمین ہندو کونسل و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار سے ملاقات کے بعد لیا۔
چیف سیکٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو کل سپریم کورٹ میں طلب کر لیا گیا ہے۔قبل ازیں وزیراعظم نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔زیراعظم نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ متعلقہ واقعے کی تحقیقات کی جائے۔اور اس میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں بدھ کی رات کو تشویش ناک واقعہ پیش آیا جب صادق آباد میں واقع ایک قدیم مندر پر مشتعل افراد نے حملہ اور توڑ پھوڑ کے بعد مندر کو نذر آتش کر دیا،2 گروپوں کے درمیان ہونے والا جھگڑا مذہبی رنگ اختیار کر گیا تھا جس کے بعد ایک گروپ کے مشتعمل افراد نے علاقے میں واقع ہندوں کے قدیم مندر پر دھاوا بول دیا۔
جبکہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے ایم 5 موٹروے بھی بند کر دی گئی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حوقو شیریضن مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ واقعہ آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت انسانی حوقو گذشتہ روز سے رحیم یار خان پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ملزمان کے خلاف ایکشن کو یقینی بنایا جا سکے۔


مشہور خبریں۔
غیر قانونی تقرری کا کیس: پرویز الہٰی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 جنوری تک توسیع
?️ 21 دسمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے پنجاب اسمبلی میں
دسمبر
یوکرائنی خفیہ اداروں کی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی کوشش:روس
?️ 9 مارچ 2022سچ خبریں:روسی وزارت دفاع نے دعوی کیا ہے کہ یوکرائن کی خفیہ
مارچ
سپریم کورٹ کا کمشنر کراچی کو ہٹانے کا فیصلہ
?️ 8 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں)سپریم کورٹ نے کراچی تجاوزات کیس میں شدید برہمی کا اظہار
اپریل
ریاستہائے متحدہ میں روزانہ ریکارڈ توڑنے والے اومیکرون مریض
?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں: اب تک 67 ملین سے زیادہ امریکی کووِڈ 19 سے
جنوری
ایرانی صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب، دونوں ملکوں کا باہمی تجارت کو 8 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
?️ 3 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایران کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس
اگست
این سی او سی نے رمضان المبارک سے قبل اہم فیصلے کرنے کا عندیہ دے دیا
?️ 10 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) این سی او سی نے رمضان المبارک کے دوران
اپریل
الحشد الشعبی پر امریکی حملے کے پس پردہ مقاصد
?️ 10 جولائی 2021سچ خبریں:لبنانی پارلیمنٹ کے ایک سابق ممبر نے عراق شام کی سرحد
جولائی
شہباز شریف نے جاپان کے ساتھ تجارت میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے عزم
?️ 6 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے جاپان کے ساتھ تجارت میں
جون