?️
سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے گزشتہ37 برسوں کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو دوران حراست جبری طور پر لاپتہ کر دیاہے۔
آج ”جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن “ پر کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں 10لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا علاقہ مانا جاتا ہے ۔مقبوضہ علاقہ مکمل طور پر ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ 1989 کے بعد بھارتی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں جبری گمشدگیوں، تشدداور دیگر مظالم میں تیزی آئی ہے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کم از کم 8ہزار بے گناہ کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کر دیا ہے۔
بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں اور کشمیریوں کا ماورائے عدالت ، دوران حراست اور جعلی مقابلوں میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات بی جے پی اورآر ایس ایس کی حکومت کے انتہا پسندانہ مسلم دشمن اور کشمیر مخالف عزائم کاحصہ ہیں۔
کشمیری نوجوان بھارتی فورسز اور ایجنسیوں کا خاص ہدف ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کا سراغ لگانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔بہت سی کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی گھر واپسی کی راہ تکتے تکتے اس دنیاسے رخصت ہو چکی ہیں۔
مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی،پولیس اور خصوصی ٹاسک فورسزکے اہلکار غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جبر ی گمشدگیوں کے ظالمانہ عمل کے باعث کشمیر میں اس وقت ہزاروں خواتین اور بچے ایسے ہیں جو ” نصف بیوائیں اور نصف یتیم “کہلاتے ہیں۔
مقبوضہ علاقے میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور” یو اے پی اے“ جیسے کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوںکے قتل ، گرفتاری ، خوف و دہشت کا نشانہ بنانے اور املاک کی توڑ پھوڑ کی کھلی چھٹی حاصل ہے اور ان قوانین کی وجہ سے مجرم اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروئی عمل میں نہیں لائی جاسکتی ۔
لاپتہ افراد کے لواحقین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عزیزوں کو بھارتی فورسز اورایجنسیوں نے گھروں، گلیوں اور سڑکوں سے اٹھا کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایاہے۔ سری نگر میں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن (اے پی ڈی پی) نے مطالبہ کیا کہ بھارت انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔
مودی حکومت نے سرینگر میں” اے پی ڈی پی “ کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
دریں اثناءحریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان ہزاروں کشمیریوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے جنہیں بھارتی فورسز نے گرفتار کے بعد لاپتہ کر دیا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ میں افغان مہاجرین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟
?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکہ میں حالیہ افغان مہاجرین کی گرفتاری کے معاملے پر تجزیہ
دسمبر
ایران میں ہونے والے حالیہ دہشتگردانہ حملے پر یورپی یونین کا شدید ردعمل
?️ 4 جنوری 2024سچ خبریں: یورپی یونین کے خارجہ تعلقات کے ترجمان نے ایک بیان
جنوری
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے انکم ٹیکس ترمیمی بل2025 کی منظوری دے دی
?️ 19 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انکم
فروری
غزہ میں نئے صیہونی نئے جرم کے بارے میں فلسطینی حکومت کا بیان
?️ 16 مارچ 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کے انفارمیشن آفس نے
مارچ
ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل
?️ 19 مئی 2026سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی
مئی
گلاسگو کانفرنس معاملے پروزیراعظم کا اہم فیصلہ
?️ 1 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیرمملکت زرتاج گل اور ملک امین اسلم کے درمیان گلاسگو
دسمبر
صیہونی عسکریت پسندوں کی ہاتھوں دو فلسطینی شہریوں کی شہادت
?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:صہیونی عسکریت پسندوں نے آج منگل کی صبح مغربی کنارے میں
مارچ
امریکہ کی دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کے نئے ثبوت
?️ 22 فروری 2025 سچ خبریں:امریکی کانگریس کے ایک ریپبلکن نمائندے کی جانب سے بوکو
فروری