?️
سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کشمیری عوام کے خلاف آئے دن نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے جس سے ان کے جذبہ حریت کو دبایا جاسکے، اور اب نئی سازش کے تحت صحافیوں کو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ صحافی، کشمیری عوام کی جانب سے کی گئی کسی قسم کے احتجاج کی کوریج نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے صحافیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خطے میں بھارت کی جابرانہ حکومت کی مخالفت اور احتجاج کرنے والوں سے مقابلوں کی براہ راست کوریج سے باز رہیں کیونکہ اسے ان کے فرائض میں مداخلت کے مترادف تصور کیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے 2019 میں اس کی آئینی خودمختاری کو ختم کردیا تھا جس کے بعد امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور فوج کو تعینات کردیا گیا تھا۔
بھارت نے خطے میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے سن 2019 میں خطے کی آئینی خودمختاری کو کالعدم قرار دینے کے بعد مقبوضہ خطے میں قیام امن کے لیے ہزاروں پولیس اور فوجیوں کو تعینات کردیا تھا۔
رواں ہفتے جاری کیے گئے حکمنامے میں مقبوضہ کشمیر کے پولیس کے سربراہ نے وادی میں مظاہرہ اور احتجاج کے ساتھ ساتھ مختلف پولیس کارروائیوں کی کوریج کرنے والوں کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔
پولیس کے سربراہ وجے کمار نے کہا کہ کوئی بھی ایسا مواد چلانے یا نشر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جس میں تشدد کو ہوا دی جائے، جس سے امن و امان خراب ہو یا جو ملک دشمن جذبات کو ہوا دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ وادی میں ہونے والے پولیس مقابلوں یا کسی بھی ایسی صورتحال سے دور رہیں جو امن و امان کے لیے چیلنج ہو اور اس طرح کی چیزوں کی براہ راست کوریج نہ کریں۔
وجے کمار نے کہا کہ صحافیوں کی آزادی اظہار رائے چند پابندیوں سے مشروط ہے تاکہ دوسروں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں صحافیوں کو خبردار کیا کہ وہ پولیس مقابلوں کے مقام پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ ذمے داری میں مداخلت نہ کریں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1989 میں شروع ہونے والی اس جدوجہد میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دگنی ہے۔
ماضی میں پولیس یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس مقابلوں کے مقام پر ٹیلی ویژن کیمروں اور صحافیوں کی موجودگی اکثر لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب دیتی ہے۔
لیکن صحافیوں نے اس ہدایات نامے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نئے قواعد کا مقصد انہیں رپورٹنگ نہ کرنے پر مجبور کرنا تھا۔
کشمیر پریس کلب نے ایک بیان میں کہا کہ آزادی صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس پر ہونے والے کسی بھی حملے سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچتا ہے، انہوں نے کہا کہ صحافت کی آزادی اور صحافت پر اس طرح کا حملہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔


مشہور خبریں۔
بولیویا میں فوجی بغاوت
?️ 27 جون 2024سچ خبریں: بولیویا میں جنرل زونیگا کی قیادت میں بولیویا کی حکومت
جون
کیا فس بک نفرت اور تشدد پر مبنی پوسٹس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؟ اہم انکشاف
?️ 6 اکتوبر 2021نیویارک(سچ خبریں)سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کی ایک سابق ملازمہ
اکتوبر
کیا امریکہ میں خانہ جنگی ہونے والی ہے؟
?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: دیگر اندرونی چیلنجوں کے علاوہ، علیحدگی پسندی امریکہ میں حکومت
جنوری
میں اپنے فوجیوں کے لیے مزید فنڈ حاصل کرنے کے لیے کانگریس جا رہا ہوں: ٹرمپ
?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دے کر کہا ہے کہ
اگست
ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں بنیادی سوال آئینی ہے، سپریم کورٹ
?️ 7 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ
جنوری
جارح سعودی اتحاد کی یمن کے صوبہ صنعا پر شدید بمباری
?️ 9 فروری 2022سچ خبریں: یمن میں عام شہریوں کے خلاف سعودی جارح اتحاد کے
فروری
اگر ٹرمپ کا منصوبہ اصلاح نہ ہوا تو ناکام ہو جائے گا: جہاد اسلامی
?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی کے نائب سکریٹری جنرل محمد الہندی
اکتوبر
روسی تیل پر سال کے آخر تک پابندی عاید
?️ 4 مئی 2022سچ خبریں: یورپی کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ماسکو کے
مئی