?️
اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات اور بامعنی مذاکرات کا خواہاں ہے لیکن مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ضروری ہے، ہم سمجھتے ہیں عالمی برادری دونوں ممالک کے مابین موجود تنازع کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کرے اور اس سلسلے میں امریکا سمیت کسی بھی ملک کی ثالثی کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت سے معاملات حل ہوں، ہم بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور مذاکرات سے بھاگ نہیں رہے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔
زاہد حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور ہم بھارت سے کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممالک کے درمیان جنگوں کے دوران بھی بات چیت ہوتی ہے، بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اور ہم بھارت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بات چیت بامعنی اور بنیادی تنازعات پر ہونی چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دیکھ رہا ہے کہ آیا بھارت سے بات چیت ہونی چاہیے یا نہیں، امن اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت ضروری ہے اور وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے تو پاکستان 2 قدم بڑھائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ موزوں حالات کے لیے بھارت کو 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لینا ہوں گے اور بھارت سے جب بھی بات ہو گی تو اس میں بنیادی نقطہ مقبوضہ جموں کشمیر ہی ہو گا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں ہائی کمشنرز کی تعیناتیوں کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ہائی کمشنرز کی واپسی فی الحال خارج از امکان ہے۔
انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں اطلاعات مکمل معلومات پر مبنی نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2017 سے سارک کانفرنس نہیں ہو سکی، پاکستان دوسال سے سارک کانفرس کے لیے کوشاں ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید بہتر کام کر رہے ہیں لہٰذا انہیں بدلنے کے حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
ایک سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے دورہ افغانستان میں افغان اسپیکر کے ساتھ معاملات طے شدہ تھے، ہمیں یہی بتایا گیا کہ کابل ائیرپورٹ سیکیورٹی وجوہات پر بند تھا اور سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستانی پارلیمانی وفد کا طیارہ لینڈ نہ کر سکا۔
زاہد حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی ویزوں پر پابندی کے حوالے سے ان سے رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ جلد یہ معاملہ مثبت انداز میں حل ہو جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے قابض بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیرقانونی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ گزشتہ ہفتے بھی جاری رہا اور پلوامہ اور شوپیاں میں مزید 10 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔


مشہور خبریں۔
پاک افغان بارڈر پر کشیدگی: مذاکرات کیلئے علمائے کرام پر مشتمل وفد قندھار روانہ
?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاک افغان بارڈر پر جاری تناؤ کا حل تلاش
دسمبر
عراقی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 5 داعشی دہشتگرد ہلاک
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:عراق کے دیالی صوبے کے شمال مشرق میں مقامی ذرائع نے
ستمبر
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین سیمی فائنل میچ پر فواد چوہدری کا اہم بیان
?️ 11 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے
نومبر
کیا رفح کے باشندے اپنا شہر چھوڑ دیں گے؟
?️ 17 فروری 2024سچ خبریں: رفح کے باشندوں نے آخری دم تک مزاحمت کی حمایت
فروری
وزیر اعظم عمران خان نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا
?️ 26 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی حکومت کو کمزور
نومبر
پاکستان کا بنگلادیش کی خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار
?️ 30 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کی جانب سے بنگلادیش کی سابق وزیرِاعظم
دسمبر
اسرائیل کے ساتھ جنگ کس مرحلے میں ہے؟عالمی عربی اخبارات کی سرخیاں
?️ 22 اکتوبر 2024سچ خبریں:اسرائیل کے ساتھ جنگ کا نیا مرحلہ اور شہید یحییٰ السنوار
اکتوبر
امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو وارننگ
?️ 21 دسمبر 2025 امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو وارننگ جنوبی کوریا، جو گزشتہ
دسمبر