مقبوضہ کشمیر میں روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریاں، پناہ گزینوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا

مقبوضہ کشمیر میں روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریاں، پناہ گزینوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا

?️

جموں (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے  روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بھارتی حکومت نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے انہیں گرفتار کرنا شروع کردیا ہے جس کے بعد پناہ گزینوں میں شدید خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکام نے جموں کے مضافات میں واقع کچی بستیوں میں مقیم 150 سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو حراست میں لے کر جیل بھیج دیا ہے، جس سے علاقے میں موجود لگ بھگ چھ ہزار روہنگیا پناہ گزینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو فارنرز ایکٹ کی دفعہ تین کی ذیلی شق دو کے تحت ہفتے کو حراست میں لیا گیا ہے جنہیں جموں سے 56 کلو میٹر جنوب میں واقع ہیرا نگر کے مقام پر قائم کیے گئے ایک ہولڈنگ سینٹر میں رکھا گیا ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر حراست افراد غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے اور ان کے پاس مطلوبہ سفری دستاویزات موجود نہیں، اس لیے انہیں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ روہنگیا مسلمانوں کو ہولڈنگ سینٹر میں رکھنا غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت اور پھر اُنہیں اپنے ملکوں میں واپس بھیجنے کے لیے شروع کی گئی حکومتی مہم کا ایک حصہ ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی جماعتوں نے جموں و کشمیر میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس کارروائی کو غیر انسانی اقدام قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کی فوج کے ہاتھوں نسل کشی سے جان بچا کر بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمان بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کے باعث جنگلوں میں چھپ کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں دیگر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والی چھاپا مار کارروائیوں میں بھارتی پولیس ڈیڑھ سو سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو غیر قانونی پناہ گزیں قرار دے کر گرفتار کرچکی ہے، جس کے باعث گزشتہ 10 سال سے مقیم ڈیڑھ ہزار سے زیادہ خاندانوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان میں سے بیشتر خطرناک جانوروں یا موسم کی سختی سے بے پرا ہوکر جموں کے جنگلوں میں چھپنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

کئی پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اور بھارتی فورسز انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں تاحیات قید کرنے کے در پے ہے۔

بی بی سی کے مطابق جموں کے رحیم نگر کیمپ میں اپنی 18 سالہ بیٹی کے ساتھ مقیم فیروزہ بیگم نے بتایا کہ اس کا شوہر شدید بیمار ہے، تاہم وہ دوا لینے نہیں جا سکتا جب کہ میانمار میں قتل عام سے فرار ہونے کے دوران سرحد کے قریب ان کے بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

روہنگیاؤں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بے حسی اور حالات کے جبر کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ شدید تناؤ اور دماغی حالت خراب ہونے کے باعث ذہنی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔

در در بھٹکنے والے روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک بھی واپس نہیں جا سکتے، جہاں میانمار کی فوج اور بدھ مت کے ماننے والوں کے ہاتھوں موت ان کی منتظر ہے جب کہ بنگلادیش یا بھارت بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

بھارتی حکومت کے اعدد و شمار کے مطابق جموں اور سانبا اضلاع کے مختلف مقامات پر 6 ہزار 500 سے زیادہ روہنگیا مسلمان مقیم ہیں۔

مشہور خبریں۔

Democratic Party politician calls Prabowo ‘cardboard general’

?️ 25 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

پی ٹی آئی کی انتخابی نشان ’بلا‘ واپس لیےجانے کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل

?️ 6 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے اپنا

جنوبی یمن میں سعودی–اماراتی نیابتی جنگ میں شدت

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں:جنوبی اور مشرقی یمن میں سعودی و اماراتی حمایت یافتہ گروہوں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے چیف جسٹس کے اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

?️ 19 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججوں نے چیف

آئینی بینچ: فوجی عدالتوں کو سویلینز کے مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد

?️ 9 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے وفاقی

گھوٹکی ٹرین حادثہ:امداد کے لئے پاک فوج بھی میدان میں آگئی

?️ 7 جون 2021راولپنڈی(سچ خبریں) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب پیش آنے

اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ تعلیم کے شعبے میں کتنا خرچ کیا گیا

?️ 10 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اقتصادی سروے پاکستان برائے سال 22-2021 میں نشاندہی کی گئی

صدرِ مملکت کی تاجکستان کے ہم منصب سے دوحہ میں ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

?️ 4 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاجکستان کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے