?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم آفس نے شہباز شریف کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت تبھی ہوسکتی ہے جب تک وہ 5 اگست 2019 کے اپنے ’غیر قانونی‘ اقدام کو واپس نہیں لے لیتا۔
وزیراعظم افس نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب تک وہ اگست 2019 میں اٹھائے گئے غیرقانونی اقدام کو منسوخ نہیں کرتا جس کا مقصد مسلم اکثریتی علاقے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی غیرقانونی طریقے سے تبدیل کرنا ہے۔
وزیراعظم دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بھارت کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کو مسوخ کرنے بغیر مذاکرات کا عمل نہ ممکن ہے۔‘
واضح رہے کہ وزیراعظم دفتر کی طرف سے ایسا بیان وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے ’العربیہ‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کے بعد آیا ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت کریں جبکہ متحدہ عرب امارات کی قیادت بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔
وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم دفتر کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم مسلسل اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی مسائل مذاکرات اور پرامن طریقے سے حل کرنے ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ ’وزیراعظم نے بار بار ریکارڈ پر یہ بھی کہا ہے کہ بات چیت صرف اس وقت ہوسکتی ہے جب بھارت اگست 2019 میں اٹھائے گئے غیرقانونی اقدام کو واپس لے، بھارت کی طرف سے غیرقانونی اقدام واپس لینے کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔‘
وزیر اعظم آفس کے ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم آفس کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران العربیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ موقف بالکل واضح کیا۔
ادھر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی اہم شرط 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے غیرقانونی اقدام کو واپس لینا ہے جس نے وادی کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کردی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ یکطرفہ قدم کی مسنوخی تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
’العربیہ‘ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ پیغام ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اور تمام حل طلب مسائل جیسا کہ مقبوضہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، یہ بند ہونی چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ملنے والے حقوق یک طرفہ طور پر 5 اگست 2019 کے اقدام سے ختم کر دیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، بھارت کو اسے روکنا چاہیے اور دنیا کو پیغام دینا چاہیے کہ وہ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے، گو کہ ہم اپنی پسند سے ہمسائے نہیں ہیں، یہ ہم پر ہے کہ ہمیں امن و خوشحالی سے رہنا چاہیے، پاکستان نے ماضی سے سبق سیکھا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگیں ہو چکی ہیں، ان جنگوں کے نتائج مزید غربت، بے روزگاری اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں ابتری کے طور پر سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا بھارت کی قیادت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ پیغام ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اور تمام حل طلب مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت کریں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، یہ بند ہونی چاہئیں اور دنیا کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ بھارت بات چیت کے لیے تیار ہے، ہم مکمل طور پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں، اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ جائے تو کون زندہ رہے گا کہ یہ بتائے کہ کیا ہوا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی طرح پاکستان کا دیرینہ دوست ملک ہے، پاکستان کے وجود میں آنے سے سیکڑوں سال پہلے برصغیر میں بسنے والے لاکھوں مسلمان سمندر اور صحر ا کے راستے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جاتے تھے اس لیے سعودی عرب کے ساتھ یہ تعلقات سیکڑوں سال پرانے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ان کا دورہ متحدہ عرب امارات انتہائی کامیاب رہا، یو اے ای میرا اور لاکھوں پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے اور اس کے پاکستان کے ساتھ انتہائی قریبی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کے مشکور ہیں بالخصوص صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے جو پاکستان کے دیرینہ مددگار اور مہربان ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور یہاں کے عوام خوشحال ہوں، اسی طرح شیخ زاید پاکستان کے ایک بڑے خیرخواہ اور دوست تھے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ونزوئلا پر سخت کارروائیاں خاندانی پابندیوں کے بعد تیل بردار جہاز بھی ضبط
?️ 12 دسمبر 2025 ٹرمپ انتظامیہ کی ونزوئلا پر سخت کارروائیاں خاندانی پابندیوں کے بعد
دسمبر
ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی سمجھوتے پر 95 فیصد پیش رفت
?️ 25 مئی 2026 سچ خبریں:امریکی نیوز چینل فاکس نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے
مئی
غزہ کی امداد پر ڈاکہ ڈالنے پر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو
نومبر
فلسطین کے لیے جنرل سلیمانی کی گراں قدر خدمات؛ماسکو یونیورسٹی کے پروفیسر کی زبانی
?️ 3 جنوری 2024سچ خبریں: ماسکو یونیورسٹی کے پروفیسر نے مزاحمت کے محور کو مضبوط
جنوری
گلانٹ کے اعترافات سے اسرائیل کے جھوٹ بے نقاب
?️ 26 اپریل 2025سچ خبریں: حماس کے رہنما محمود مرداوی نے اسرائیلی وزیر دفاع سابق
اپریل
بن سلمان کا نامعلوم مستقبل
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:81 افراد کو اجتماعی پھانسی دینے کے سعودی حکومت کے نئے
مارچ
وزیراعظم کا سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے 25 ارب روپے دینے کا وعدہ
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو منانے کی بظاہر
جون
بھارت کے شدت پسندانہ ہندوتوا نظریے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔ صدر مملکت
?️ 8 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے
جون