متحدہ مجلس علماء سمیت سیاسی حلقوں کا درگاہ حضرت میں اشوک چکر والی تختی نصب کرنے پر اظہارتشویش

?️

سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مختلف سیاسی ، سماجی اورمذہبی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم ”متحدہ مجلس علماء ” نے درگاہ حضرت بل میں اشوک چکر والی تختی نصب کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت بل کشمیری مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوجاتے ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متحدہ مجلس علماء نے سرینگر میں اپنے سربراہ میرواعظ عمرفاروق کی زیر صدارت ایک اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہاکہ درگاہ حضرت بل محض ایک عمارت نہیں بلکہ کشمیری مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے جو صدیوں سے ہمارے ایمان اورشناخت سے جڑا ہوا ہے اور اس کی حرمت اور تقدس میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے عوامی جذبات شدید مجروح ہوتے ہیں۔

بیان میں کہاگیا کہ اسلامی تعلیمات میں واضح ہے کہ مساجد، خانقاہوں اورمزارات میں تختیاں، علامتیں ،مجسمے یا کوئی نشان نصب کرنا جائز نہیں۔ہماری سرزمین میںاس اصول پر نسل درنسل عمل ہوتا آیاہے حتی کہ ماضی میں جب درگاہ حضرت بل کی تعمیر نو کی گئی تب بھی کوئی تختی نصب نہیں کی گئی تاکہ شریعت اور روایت کے تضاضے قائم رہیں۔اب اس روایت کو توڑنا غیر ضروری اور خطرناک قدم ہے۔

بیان میں کہاگیا کہ مجلس علماء وقف بورڈ کو یاد کراتی ہے کہ ایسے اقدام ان ذمہ داریوں کے منافی ہیں جو اسے شرعی قانون اور روایت کے مطابق سونپی گئی ہیں۔ اس مسئلے پر عوام کا ردعمل ان کے سچے اورپر خلوص مذہبی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ عبادت گزاروں اور زائرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرناجو اپنے ایمان کے تقاضے کے تحت احتجاج کررہے تھے، ناجائز ،غیر منصفانہ اورناقابل قبول ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ مجلس اس تختی کو حضرت بل سے فوری طورپر ہٹانے کا مطالبہ کرتی ہے اوروقف بورڈ اور دیگر ذمہ داروں پر زوردیتی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے مقامات پر متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل مستند علماء سے مشاورت کریں۔

کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے تختی کی تنصیب کو عوامی جذبات کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تختی صرف سرکاری دفاتر میں نصب کی جاتی ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی (ایم)کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے اس عمل کو اشتعال انگیزی اور غیر ضروری قرار دیا جبکہ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش قرار دیا۔

مشہور خبریں۔

بھارتی پولیس تازہ کارروائیوں میں سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنارہی ہے

?️ 21 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

گریٹر عراق میں ایک بڑے سیکورٹی آپریشن کا آغاز

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:   فوج نے ایک بیان میں کہا کہ زمینی افواج کی

پاک امریکا تعلق آزمودہ، بااعتماد اور پائیدار شراکت داری کی مثال ہے۔ مریم نواز

?️ 7 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے

میران شاہ میں خودکش دھماکا

?️ 15 مئی 2022راولپنڈی(سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے قریب خودکش دھماکے میںپاک فوج کے

این اے 237 میں عمران خان کو شکست، پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی امیدوار کی کامیابی چیلنج کردی

?️ 18 اکتوبر 2022کراچی 🙁سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کراچی کے

سوڈان کے منظر نامے سے تل ابیب کی حکمت عملی؛ مغربی ایشیا کی نئی ترتیب کو توڑنا!

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:ایک سیاسی تجزیہ نگار نے مغرب سے مشرق میں اقتدار کی

دنیا میں سب سے زیادہ انتشار پھیلانے والا کون ہے؟اسپینش تھنک ٹینک کی زبانی

?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:اسپینش تھنک ٹینک پولیٹیکا ایکسٹیریئر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے

بائیڈن نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی تردید کی

?️ 22 مئی 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں امریکی صدر جو بائیڈن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے