بھارت فوجی طاقت کے ذریعے یا ترقی کے نام پرکشمیریوں کو خاموش نہیں کرا سکتا: حریت رہنما

?️

سرینگر: (سچ خبریں) حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے کہاہے کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ صرف اور صرف فوجی طاقت کے بل پر برقرار ہے اور کسی بھی قسم کے نام نہاد ترقیاتی منصوبے یا بے بنیاد بیان بازی کشمیریوں کے آزادی کے جائز مطالبے کو دبا نہیں سکتی اورنہ ہی قیام امن کی آڑ میں خطے کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے جن میں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام محمد خان سوپوری، ڈاکٹر مصعب، مولانا سبط شبیر قمی، ایڈووکیٹ حارث وانی، امتیاز ریشی، سید امتیاز احمد، یاسمین راجہ،ڈاکٹر عرفان خان،ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر مسلم لیگ، تحریک حریت جموں کشمیر، اتحاد المسلمین جموں و کشمیر، کشمیر تحریک الخواتین ،تحریک وحدت اسلامی اور دیگر شامل ہیں ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے حالیہ دورے کے دوران کیے گئے جابرانہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کو ایک فوجی قلعے میں تبدیل کر دیا گیاتھا جس سے پہلے سے مشکلات کا شکارکشمیریوں کی حالت زار مزید ابتر ہوگئی۔ انہوں نے ریل لائنوں اور پہاڑی ٹنلوں جیسے منصوبوں کو مسترد کر دیا جنہیں ترقیاتی اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا کیونکہ فوجی مقاصد کی ان اسکیموں کا مقصد مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے فوجیوں کی نقل و حرکت کو آسان بناناہے۔

حریت رہنماؤں نے جموں کے دورے کے دوران بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بے بنیاد بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ا س کو جموں و کشمیر کے بارے میں تاریخی حقائق کو دانستہ طور پر مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے اور آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں ان کے اشتعال انگیز بیانات علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطر ہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بے بنیاد دعوئوں سے تاریخ کو دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا اور نہ ہی کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے کہاکہ بھارتی حکام مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور منظم ظلم وجبر کو چھپانے اور اپنے شہریوں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹے بیانیے بنارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت اپنے ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی کی آڑمیں دفاع پر مبنی منصوبوں پر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 35سال میں تقریباایک لاکھ کشمیری شہیدہو چکے ہیں اور ہزاروں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے ناقابل تنسیخ حق آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔حریت رہنمائوں نے بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کر تے ہوئے جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیاہے۔

دریں اثناء سرینگر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا مقصدلائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی)اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر سیکیورٹی کو بڑھانا ہے۔ یہ منصوبے بھارتی افواج کو وادی کشمیر اور لداخ خطے تک رسائی کے لیے متبادل راستے فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی مقبوضہ جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس نے مسلسل فوجی جبر اور اپنی ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں کے نفاذ سے علاقے میں نام نہاد امن قائم کیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں بی جے پی مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے منصوبے منظم طریقے سے کسی رکاوٹ یا مداخلت کے بغیر نافذ کر رہی ہے اور فوجی اقدامات کے ذریعے اپنے قبضے کو مضبوط کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

عراقی قبائل کا سعودی سرمایہ کاری کے خلاف مظاہرہ

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:عراق کے صوبہ المثنی میں اس ملک کے قبائل نے السماوا

ایران کے خلاف جنگ نے امریکی تیل ذخائر کو بحرانی حد کے قریب پہنچا دیا ہے؛ سی این این کی رپورٹ

?️ 13 جون 2026سچ خبریں:سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے

یمنی ڈرون "صمد-3” اسرائیلی فوج کے دفاعی یونٹوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے

?️ 11 اکتوبر 2025سچ خبریں: حالیہ ہفتوں میں یمنی مسلح افواج کے رامون فوجی ہوائی

ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں کیوں کامیاب ہوا؟

?️ 28 مئی 2026سچ خبریں:الجزیرہ نے امریکی مفکرین جیفری ساکس اور سیبیل فارس کے مشترکہ

حکومتی کمیٹی اور ق لیگ قیادت کی ملاقات

?️ 12 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے

مصری کھلاڑی کی یوکرین کی حمایت کے بجائے بے ساختہ فلسطین کی حمایت

?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:ایک مصری کھلاڑی نے چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے

سندھ بلدیاتی انتخابات: حلقہ بندیوں کےخلاف درخواست پر 15 اگست کو فیصلہ سنایا جائے گا

?️ 4 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے

انگلینڈ میں عام انتخابات تک ایک سال باقی

?️ 8 جون 2023سچ خبریں:برطانوی عام انتخابات میں تقریباً ایک سال باقی ہے پولز بتاتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے