?️
سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سے ماہرین ماحولیات اور سیاسی مبصرین میں گہری تشویش پیدا ہوئی ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پانی کے ان ذخائر کو ہمسایہ ممالک کے خلاف آبی دہشت گردی کے لئے ہتھیار کے طورپر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے برہم پترا اور دریائے چناب پر پن بجلی منصوبوں میں توسیع بین الاقوامی اصولوں اور ماحولیاتی تحفظ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان منصوبوں میں2000میگاواٹ کا سبانسیری لوئر شامل ہے،اس کے ڈیم کی اونچائی 125میٹر ہے اور لاگت 2002میں 6,285کروڑ روپے سے بڑھ کر 26,075کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح 1650میگاواٹ کا اپر سبانسیری، 2880میگاواٹ کا دیبانگ اور اروناچل پردیش میں1800میگاواٹ کا کملا منصوبہ پن بجلی کی ناقص پالیسی کی مثالیں ہیں جو افہام وتفہیم کے بجائے زبردستی کنٹرول پر مبنی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی علاقوں میںبھارت 208سے زیادہ نئے ڈیموں کی منصوبہ بندی کررہا ہے جو تقریبا 65,000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ بغیر کسی دو طرفہ حفاظتی اقدامات یا علاقائی تعاون کے چین کے میڈوگ ہائیڈرو پاور ماڈل کی نقل ہے جس کے سنگین ماحولیاتی اور انسانی اثرات ہونگے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نے دریائے چناب پر 1000میگاواٹ کے پکل دول ، 624 میگاواٹ کے کیرو، 540 میگاواٹ کے کوار اور850میگاواٹ کے رتلے منصوبوں پر تعمیراتی کام کو تیز کیا ہے جن میں سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز کیاگیا ہے اورمشترکہ دریائوں کو جارحیت کے آلات میں تبدیل کر دیا گیاہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے زیریں علاقوں میں خاص طور پر پاکستان میں آبپاشی کے نیٹ ورکس، پینے کے پانی کی فراہمی اور غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہے۔
دریں اثناء ان منصوبوں سے ہزاروں قبائلی اور دیہی خاندانوں کو جبری نقل مکانی کا سامنا ہے جبکہ ان کی بحالی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جوان کے زندہ رہنے اور معاشی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ماحولیاتی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جارحانہ پالیسی کو ترک کرے اور اس کے بجائے تعاون پر مبنی، پائیدار اور کمیونٹی کی زیرقیادت پانی کے انتظام پر عمل کرے۔ انہوں نے خبردارکیا ہے کہ پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے موجودہ بھارتی پالیسی سے عدم استحکام اور انسانی مشکلات میں اضافے کا خطرہ ہے۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا: ہم غزہ جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں
?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم نے تحریک حماس کی مزاحمت کو تسلیم
اکتوبر
جنوب مشرقی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: جنوب مشرقی ایشیا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے امریکہ اور
جولائی
حزب اللہ نے اپنے عہدیداروں کے قتل کی تردید کی
?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے ہفتے کی رات ایک بیان
اکتوبر
اسرائیل کے دفاعی ادارے کے اربوں ڈالر کیسے ضائع ہوئے؟
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں: مزاحمتی محاذوں کی طرف سے داغے جانے والے میزائلوں اور
دسمبر
اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی فیفا اور یوفا رکنیت معطل کرنے کی کوششیں شروع:اردن
?️ 28 ستمبر 2025 اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی فیفا اور یوفا رکنیت معطل کرنے کی
ستمبر
لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو آئینی بحران سے ایمرجنسی یا مارشل لا کا خدشہ ہے، وزیر خارجہ
?️ 4 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ازخود نوٹس سماعت
اپریل
امریکا نے ایران پر غیرقانونی پابندیاں عائد کرکے خطے میں ناامنی پیدا کی ہے: چین
?️ 4 اپریل 2021بیجنگ (سچ خبریں) چین نے امریکا کی جانب سے ایران پر یکطرفہ
اپریل
یاسر حسین کا اگلی بار اقرا کو اپنے پراجیکٹ کا حصہ بنانے کا فیصلہ
?️ 1 اگست 2021کراچی (سچ خبریں) ہدایتکاری کی دُنیا میں قدم رکھنے والے معروف اداکار
اگست