بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں

?️

سچ خبریں: بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی جانب سے 2019 میں ختم کی گئی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی۔

درخواست گزاروں نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے منسوخی ایکٹ کو چیلنج کیا تھا، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے 4 سال تک اس معاملے کو دانستہ طور پر لٹکائے رکھا۔

آج سنائے گئے فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، آرٹیکل 370 عارضی اقدام ہے، ہر فیصلہ قانونی دائرے میں نہیں آتا، بھارتی صدر کے پاس آرڈر دینے کے اختیارات ہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ستمبر میں وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی جانب سے 2019 میں ختم کی گئی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی تھی۔

بھارتی چیف جسٹس دھنانجیا یشونت چندراچد، جسٹس سجنے کشان کول، جسٹس سجنیو کھنہ، جسٹس بی آر گیوائی اور جسٹس سوریا کانت پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں سپریم کورٹ نے حکومتی وکلا، بھارت کے حامی مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے آئینی ماہرین اور دیگر فریقین سے 16 سے زائد دنوں تک دلائل سنے تھے۔

یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، جس کے تحت بھارت کے دیگر شہروں کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادیں حاصل کرنے اور مستقبل رہائش کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔

آرٹیکل 370 کے باعث بھارت کی پارلیمنٹ کے پاس دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ ریاست میں قوانین نافذ کرنے کے محدود اختیارات تھے۔

بی جے پی کے اس فیصلے کو کشمیری عوام، عالمی تنظیموں اور ہندو قوم پرست حکمران جماعت کے ناقدین نے مسلم اکثریتی خطے کو ہندو آبادکاروں کے ذریعے شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ میں 20 سے زائد درخواستیں دائر کردی گئی تھیں، جس میں بھارتی حکومت کی جانب سے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے کیے گئے فیصلے کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔

درخواست گزار نے عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ آئینی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارت نے کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں 5 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ماضی میں جنگیں بھی ہوئی ہیں اور 1989 سے ہزاروں افراد بھارت سے آزادی کے لیے جان کی بازی لگا چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام اور ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے 2019 کے بعد میڈیا کی آزادی اور احتجاج پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق پر بدترین پابندیاں نافذ کردی ہیں۔

دوسری جانب مودی کی حکومت اپنے متنازع فیصلے کا دفاع کرتی ہے اور مؤقف ہے کہ وہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام لا رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے بھی بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی صحافت سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک برس طویل تحقیقات پر اعتراض کرتے ہوئے بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

مقامی پولیس نے یوگیتا لیمے کی بی بی سی نیوز رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا تھا، جس کا عنوان ’کوئی بھی خبر آپ کی آخری خبر ہوسکتی ہے—کشمیر پریس پر انڈیا کا کریک ڈاؤن‘ ہے، اس رپورٹ میں میڈیا کو دھمکانے اور خاموش کرانے کی ایک مذموم اور منظم مہم کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کشمیری صحافی آصف سلطان، فہد شاہ، سجاد گل اور عرفان معراج سمیت دیگر کی نظربندی اور ان پر مقدمہ چلانے کے پیچھے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

بی بی سی نے جن صحافیوں سے بات کی ان میں سے 90 فیصد سے زائد صحافیوں نے بتایا کہ انہیں پولیس کم از کم ایک بار طلب کر چکی ہے، ان میں سے اکثر کو ایک خبر پر متعدد بار طلب کیا جا چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کا اسٹیٹس تبدیل ہو چکا، اڈیالہ جیل منتقل کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ

?️ 25 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق

رہنما انصار اللہ: غزہ میں صہیونیوں کے نشانے پر بچے بھی شامل ہیں

?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: انصار اللہ یمن کے سربراہ نے اعلان کیا کہ صیہونی

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو 9 مئی کی ہنگامہ آرائی کی ویڈیوز دکھانے کا امکان

?️ 25 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) 9 مئی کے پر تشدد واقعات کی سنگینی پر

افغانستان میں امریکہ کی نئی سازش اور پاکستان کا واضح موقف

?️ 21 جون 2021(سچ خبریں) امریکہ کی جانب سے افغانستان میں ایک نئی سازش کی

مشکل صورتحال ہے، احتیاط سے چلنا ہوگا‘ جسٹس مظاہر نقوی کی آئینی درخواست پر سماعت جاری

?️ 8 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) جسٹس مظاہر نقوی کی آئینی درخواست پر سپریم کورٹ

عراق میں بجلی بحران کا ذمہ دار کون ہے؟

?️ 11 جولائی 2023سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے اس ملک میں بڑھتے

آمنہ الیاس کی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر تنقید

?️ 9 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتے ہوئے

پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا، مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوگئے

?️ 15 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ڈی ایم اور جے یو آئی (ف)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے