?️
سچ خبریں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری کے نتائج ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کے نتائج کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔
رواں سال اپریل کے وسط میں میڈیا کو غیر رسمی طور پر بتایا گیا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک میجر جنرل کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری قائم کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے جنرل ر فیض حمید کو کلین چٹ دے دی
تاہم، فوجی حکام نے انکوائری شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا، لیکن تقریباً تمام معروف ٹی وی چینلز اور اخبارات نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی تھی۔
بتایا گیا کہ فوجی حکام نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس کیس میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کیس میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں جنرل فیض پر غیر قانونی طور پر ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے اور قیمتی سامان چوری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
17 اپریل کو میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج میں خود احتسابی کا سخت اور شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کے تحت تمام الزامات کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جاتی ہیں اور ذمہ داروں کو سخت سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کا خود احتسابی کا نظام برقرار رہے۔
8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے جنرل (ر) فیض حمید پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض کے کہنے پر آئی ایس آئی حکام نے سٹی آفس اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کے گھر پر چھاپہ مارا۔
درخواست گزار نے الزام لگایا کہ چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھر سے سونا، ہیرے اور رقم سمیت قیمتی اشیا ضبط کیں، مزید یہ کہ فیض کے بھائی سردار نجف نے مسئلہ حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں ذاتی طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے ان سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ضبط شدہ سامان میں سے کچھ واپس کیا جائے گا، تاہم 400 تولہ سونا اور نقدی واپس نہیں کی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، اور اگر درست ہیں تو وفاقی حکومت، مسلح افواج، آئی ایس آئی اور پاکستان رینجرز کی ساکھ کو نقصان ہوگا، لہٰذا ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، عدالت نے درخواست میں کیے گئے مطالبے کے تحت آئین کے آرٹیکل 184(3) کی کارروائی نہیں کی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کو شک ہے کہ وزارت دفاع اس کی شکایت پر غور نہیں کرے گی، کیونکہ جواب دہندگان مسلح افواج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔
مزید پڑھیں: فیض حمید نے دھرنے کے دوران ملاقات میں استعفے کا کہا تھا ،زاہد حامد
تاہم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل فار پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ شکایت پر مناسب غور کیا جائے گا، اس لیے درخواست گزار کا شک غلط ہے۔


مشہور خبریں۔
سیکیورٹی فورسز کی ’بی ایل اے‘ کے خلاف کارروائی، اہم کمانڈر ہلاک
?️ 15 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی
اکتوبر
یوٹیوب کا مصنوعی ذہانت سے ویڈیوز بنانے والے جعل سازوں کے خلاف کارروائی کا منصوبہ
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: یوٹیوب نے کہا ہے کہ جلد ہی اپنے صارفین کو
نومبر
ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اثرات؛ امریکی فوجی ذخائر میں کمی، خلیجی معیشتوں پر دباؤ اور واشنگٹن کی ساکھ کو دھچکا
?️ 17 اکتوبر 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات عالمی
اکتوبر
صدر کا وزیراعظم کو خط، نگران حکومتوں کے 90 دن سے زائد قیام کی قانونی حیثیت پر اظہارِ تشویش
?️ 21 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر
اپریل
جنوبی لبنان میں صیہونی محاصرے میں موجود لبنانی خاتون صحافی شہید
?️ 23 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی محاصرے میں موجود جنوبی لبنان کی ایک خاتون صحافی شہید
اپریل
پتنگ بازی پر مکمل پابندی کے لیے وزیراعلی پنجاب، آئی جی، چیف سیکرٹری سمیت دیگر کو خط
?️ 25 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی
اکتوبر
اسرائیل کی ایران کے خلاف چین سے مدد کی اپیل
?️ 7 جولائی 2025 سچ خبریں:ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ میں بھاری نقصان اٹھانے
جولائی
فلسطینیوں کے مستقبل کے لیے امریکی اور اسرائیلی خطرناک منظرنامے
?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کی غزہ میں جنگ بندی کے عمل میں رکاوٹیں
نومبر