26 نومبر احتجاج کیس: اے ٹی سی نے علیمہ خان کو عارضی تحویل میں لینے کا حکم دیدیا

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر 2024 کے پُرتشدد احتجاج کے مقدمے میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان کو عارضی تحویل میں لینے کا حکم دے دیا۔

علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف راولپنڈی کی اے ٹی سی میں سماعت ہوئی، ملزمہ علیمہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، جانے کی اجازت دی جائے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ کرمنل پروسیجر کی سیکشن 351 کے تحت ملزمہ عدالتی تحویل میں ہے، ملزمہ کی ضمانت نہیں، عدالت کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جاسکتیں۔

علیمہ خان عدالت سے نکلیں توخواتین اہلکاروں نے تحویل میں لے لیا، علیمہ خان کو شہادتیں ریکارڈ ہونے تک تحویل میں لینے کی اجازت دی گئی۔

عدالت نے کہا کہ ملزمہ عدالتی احاطے سے باہر نہ جائیں۔

بعد ازاں علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک بھی عدالت پہنچ گئے۔

عدالت نے علیمہ خان کو شہادتیں ریکارڈ ہونے تک تحویل میں لینے کی اجازت دی۔

پس منظر

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر 2024 کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے۔

تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔

احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔

پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔

مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی

?️ 30 اپریل 2021گلکت (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی

بچوں کی قاتل صیہونی حکومت؛22 سال میں 2500 فلسطینی بچے شہید

?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:بظاہر انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کی خاموشی

فلسطینی مزاحمتی تحریک کی صیہونی جیلوں میں قید مجاہدین کے آزادی سے متعلق حکمت عملی

?️ 5 جولائی 2021فلسطین سے باہر حماس اسلامی مزاحمتی تحریک کے سربراہ نے کہاکہ صیہونی

یوکرین کے لیے مسلسل امریکی حمایت

?️ 19 مئی 2022سچ خبریں:روس کے ساتھ یوکرین کے تنازع کے تناظر میں کئی سینئر

حج آپریشن کا آغاز، کراچی سے روانہ ہونے والی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی

?️ 9 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان سے حج 2024 آپریشن کا آغاز ہوگیا، کراچی

 ٹرمپ سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہے ہیں:امریکی شہری

?️ 24 اکتوبر 2025 ٹرمپ سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہے ہیں:امریکی شہری

معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں، وزیر اعظم

?️ 21 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صنعتی ترقی

تاجکستان نے 200 افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا

?️ 8 ستمبر 2022سچ خبریں:      ایک امریکی میڈیا نے تاجکستان سے افغان مہاجرین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے