?️
لاہور(سچ خبریں)وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ گزشتہ دن گرفتاریوں سے متعلق بڑا فیصلہ تھا اور مجھے معلوم تھا کہ تنقید ہوگی مگر میں نے وہ فیصلہ وزیر اعلیٰ کی عینک اتار کر ایک پاکستانی کی حیثیت سے کیا تھا۔
چھاپے کے دوران شہید پولیس اہلکار کی نمازہ جنازہ میں شرکت کے بعد حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے حواریوں نے کہا کہ یہ خونی مارچ ہوگا مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ کس قسم کی سیاست ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان یہ پوچھتا رہتا ہے کہ عدالت رات گئے کیوں کھلی، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ آئین و قانون کا قتل کرنے چلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی انا یہ تھی کہ اس نے ڈپٹی اسپیکر کو کہا کہ اپنی رولنگ سے آئین کو روند دو، ملک کا تماشہ بنادو مگر میری انا کو بچاؤ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں صوبے کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ کچھ تکالیف آئیں گی مگر ملک کی معیشت سسکیاں لے رہی ہے اس کو بہتر کرنے کے لیے کچھ دن تکلیف برداشت کرنی ہوگی، کل ہی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے ہماری بات ہونی ہے اور عمران خان نے کل ہی کے دن کا اپنے لانگ مارچ کے لیے انتخاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 52 ارب ڈالر کے منصوبے آرہے تھے اور چینی ہم سے کچھ مانگ نہیں رہے تھے مگر وہ نہیں آسکے۔
حریت رہنما یٰسین ملک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل کشمیری رہنما کو سزا سنائی جائے گی اور ان کی اہلیہ نے اپنی بچی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان سے کہہ رہی تھی کہ یٰسین ملک عمران خان کے دوست ہیں تو عمران خان 25 کے بجائے 26 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیوں نہیں کرتے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران خان نے 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کے برعکس اس نے اپنا گھر ریگولرائز کروا کر غریب لوگوں کے گھر تباہ کردیے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے صوبے کے عوام سے معافی چاہتا ہوں مگر دل پر پتھر رکھ کر ہم نے گرفتاریوں کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایک دن یہ چلا جائے تو شاید عمران خان کے کل کے ناپاک عزائم سے ہم بچ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے پولیس کو بھی کہا ہے کہ پاکستان اور قائد اعظم کا فرمان سامنے رکھ کر آگے چلو، یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں ہے کہ الیکشن کمشنر بھی عمران خان کی مرضی کا ہو اور الیکشن کی تاریخ بھی اس کی مرضی سے دی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات لاہور میں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے گھروں پر رات گئے پولیس کی کارروائی کی اطلاعات موصول ہوئی جبکہ شیخ رشید احمد کی رہائش گاہ لال حویلی کے ساتھ ساتھ راولپنڈی میں فیاض الحسن چوہان اور اعجاز خان ججی کے گھروں پر بھی مبینہ طور پر چھاپے مارے گئے۔
علاوہ ازیں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کا گھر زیر نگرانی ہے جس کی وجہ سے وہ جہلم روانہ ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر پولیس کو پنجاب میں مقیم پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جن میں عثمان ڈار، ملک وقار احمد، انجینئر کاشف کھرل، مظہر اقبال گجر اور دیگر شامل ہیں۔
پولیس نے رات گئے ماڈل کالونی میں پی ٹی آئی کے کارکنان کے گھر میں چھاپہ مارا جہاں کارکنان نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے فائرنگ کی جس میں پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔


مشہور خبریں۔
چین کی دھمکیوں نے عالمی نظام کو چیلنج کردیا: تائیوان
?️ 3 اگست 2022سچ خبریں: چین کے اس اصرار کے باوجود کہ تائیوان اس کی
اگست
کامیابی کے لئے پرامید ہیں:چوہدری پرویز الٰہی
?️ 13 اپریل 2022لاہور:(سچ خبریں) پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے حکومتی اتحاد کے امیدوار چوہدری
اپریل
مقبوضہ کشمیر میں حقوق کو پامال کرنے والوں کو خوش کرنے کے بجائے ان سے جواب طلب کریں
?️ 24 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے 46
فروری
نیتن یاہو کی معافی کے اسرائیل پر ممکنہ اثرات
?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی صدر اسحاق
دسمبر
حماس کا ثالثوں سے اسرائیلی جرائم کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ
?️ 18 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ میں جاری صیہونی مظالم
مارچ
عوام کو تیل کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر ریلیف ملنے کا امکان
?️ 13 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ
نومبر
انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف، سابق کمشنر راولپنڈی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم
?️ 13 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی مقامی عدالت نے پولیس کو سابق کمشنر
مارچ
‘جو کچھ میرے ساتھ ہوا، اس سے بہتر ہے مجھے گولی مار دی جاتی’
?️ 14 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی
اکتوبر