لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو آئینی بحران سے ایمرجنسی یا مارشل لا کا خدشہ ہے، وزیر خارجہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ازخود نوٹس سماعت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایسا آئینی بحران پیدا ہوگا جس سے پاکستان میں ایمرجنسی یا مارشل لا کی صورتحال پیدا نہ ہوجائے۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایسا آئینی بحران پیدا ہوگا جس میں میرا خدشہ ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی یا مارشل لا کی صورتحال نہ پیدا ہو جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح تخت لاہور کی لڑائی انا پر اتر آئی ہے اگر لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو تاریخ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو یاد رکھے گی مگر اس طرح یاد رکھے گی کہ یہ ایسا چیف جسٹس تھا جس نے تین ججز کو بٹھا کر پاکستان کو آمریت کے دلدل میں دھکیلا تھا۔

ماضی کی طرح ہماری عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کے تین ججز کو سوچنا چاہیے کہا کیا ہو رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ الیکشن کا سوال نہیں اور نہ ہی عام کیس ہے بلکہ سپریم کورٹ کا ٹرائل چل رہا ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت عدلیہ پر سینیئر ترین جج کی طرف سے جو تنقید ہو رہی ہے وہ تاریخی تنقید ہے، تینوں ججز پر ایک قسم کا عدم اعتماد ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ عدم اعتماد اپوزیشن کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے باقی ججز کا ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج بھی وقت ہے سب ہوش کے ناخن لیں، یہ ہم سب کا پاکستان ہے جس کے لیے سب کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام کی فلاح و بھلائی ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ معزز جج صاحبان لارجر بینچ تشکیل دے کر اس اہم سوال کا جواب دیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر تین افراد کا فیصلہ ہوگا تو اس کے اثرات الگ ہوں گے اور اگر لارجر بینچ کا فیصلہ ہوگا تو اس کے اثرات الگ ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو عمران خان کا کوئی فکر نہیں ہے، ہم اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اس کو شکست بھی دے سکتے ہیں جیسا کہ ملیر میں ان کو شکست دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا کسی کو فکر نہیں ہے، ایک سال قبل انتخابات ہوئے، آج بھی ہمارے اراکین انتظار میں ہیں کہ وہ میئر اور چیئرمین بنیں لیکن اس پر تو سپریم کورٹ کو کوئی خیال نہیں آیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات وقت پر اور جمہوری طریقے سے ہونے چاہئیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے اتحادیوں کے اعتراضات بھی کافی بھاری ہیں۔

رجسٹرار سپریم کورٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ رجسٹرار کا تو ہم پہلے سنتے ہی نہیں تھے، کورٹ ہوتا تھا، ججز ہوتے تھے، ہمیں کیا پتا رجسٹرار کیا ہوتا، اب پتا لگا کہ رجسٹرار تو ’سپر ایمپیرر‘ ہے اور چاہے تو ایک نوٹی فکیشن کے تحت تین رکنی بینچ کے فیصلے کو اڑا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب آمریت کے طریقہ کار سپریم کورٹ میں نظر آرہے ہیں اور جب جج صاحبان خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارا ون میں شو ہے تو اس سے پہلے کہ کوئی اور قدم اٹھائے بہتر یہ ہوگا کہ چیف جسٹس اور دیر جج صاحبان خود لارجر بینچ بنادیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جج صاحبان لارجر بینچ تشکیل دیں گے تو نہ صرف ہم ان کے ہر فیصلے کا دفاع کریں گے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کریں گے۔

مشہور خبریں۔

لاہور میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

?️ 19 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور مسلم

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ احسن اقبال

?️ 18 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا

جعفر ایکسپریس آپریشن میں ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کی تصاویرمنظرعام پر آگئیں

?️ 18 مارچ 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) جعفر ایکسپریس آپریشن میں ہلاک دہشت گردوں کی لاشوں

پاکستان نے عدلیہ سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا

?️ 28 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی عدلیہ کے حوالے سے  امریکی دفتر خارجہ

کیا عمران خان 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے پر راضی ہو گئے؟

?️ 9 اگست 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان

صیہونی پولیس کا صیہونی شہریوں کے ساتھ سلوک

?️ 28 جون 2023سچ خبریں: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عدالتی قانون میں اصلاحات کے خلاف

دفتر خارجہ کا کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے متعلق اہم بیان

?️ 15 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان دفتر خارجہ نے  کابل میں پاکستانی سفارت خانے

’کنا یاری‘ فیم ایوا بی کی رکشہ سواری کی ویڈیو وائرل

?️ 19 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) ’کوک اسٹوڈیو سیززن 14‘ کے ’کنا یاری‘ سے شہرت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے