?️
پشاور:(سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 90 روز میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات کرانے کی درخواست سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نمٹا دی۔
پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس روح الامین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل شمائل احمد بٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے۔
جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے، ہم سپریم کورٹ کے حکم کے پابند ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ گورنر الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت سے تاریخ دیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں گورنر کو الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند بنایا گیا ہے۔
شمائل احمد بٹ نے کہا کہ آئین میں یہ چیزیں واضح لکھی ہوئی ہیں، اس پر جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ کاش جو بناتے ہیں وہ اسے پڑھ بھی لیں۔
بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پھر عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز سنائے گئے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات دونوں صوبوں میں 90 روز میں ہونا ہیں، پارلیمانی جمہوریت میں انتخابات اہم عنصر ہیں۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی جانب سے سامنے آنے والا یہ فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت کے ساتھ جاری کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبرپختونخوا کی حد تک گورنر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے، اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہ کرے تو صدر مملکت تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے، الیکشن کمیشن فوری صدر مملکت سے مشاورت کرے، 9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت سے پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ تجویز کرے، پنجاب کے الیکشن کی تاریخ صدرِ مملکت دیں گے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کر کے آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا، گورنر کے پی صوبائی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کریں، الیکشن ایکٹ کے 57 اور 58 کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ دی جائے، کے پی کے انتخابات کی تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے آج مختصر فیصلہ جاری کیا گیا ہے، تفصیلی فیصلہ بند میں جاری کیا جائے گا، فیصلے کے مطابق آئین میں انتخابات کے لیے 60 اور 90 دن کا وقت دیا گیا ہے، جنرل انتخاب کا طریقہ کار مختلف ہے۔
خیال رہے کہ 31 جنوری کو پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور نگران حکومت کے قیام کے بعد 90 دن میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن کرانے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ قانون کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دن کے اندر الیکشن کرانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے، لہٰذا عدالت اس سلسلے میں اپنا کردار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کا پابند کرے۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے 17 جنوری کو آئین کے آرٹیکل 112 (1) کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو ارسال کردی تھی۔
محمود خان نے اپنی ٹوئٹ میں سمری بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے 18 جنوری کو سابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کردیے تھے۔
اعظم خان کو صوبے کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا اور 26 جنوری کو 15 رکنی نگران کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔


مشہور خبریں۔
اردن کے بادشاہ کی فرانس کے صدر سے ملاقات
?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں: اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بدھ کے روز
ستمبر
چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا۔ اعظم نذیر تارڑ
?️ 12 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ
نومبر
پاک۔افغان سرحد سے ہتھیاروں کی بڑی کھیپ پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، جدید اسلحہ برآمد
?️ 22 جنوری 2025بلوچستان: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے پاک ۔ افغان سرحد پربڑی کارروائی
جنوری
جنگ کی بحالی سے اسرائیل کی صورت حال مزید پیچیدہ
?️ 13 مارچ 2025سچ خبریں: ہاریٹز اخبار کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگ دوبارہ شروع
مارچ
عمران خان، اہلیہ کی درخواست ضمانت کیس میں عدم حاضری، سپرنٹنڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس جاری
?️ 21 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے
مارچ
صیہونی جارحیت کے بارے میں قطر کا عالمی برادری سے مطالبہ
?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی مظاہروں کے ردعمل میں قطر
دسمبر
اوچھے ہھتکنڈے میدان میں ناکامی کی علامت
?️ 3 نومبر 2022سچ خبریں:بین الاقوامی امور کے ایک ماہر کا خیال ہے کہ جب
نومبر
پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان مذاکرات
?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف نے جے یو آئی کے ساتھ مذاکرات
جولائی