پشاور ہائیکورٹ: آئینی ترمیم، پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل

?️

پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے موجوزہ آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف 3 آئینی درخواستوں پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل 3 رکنی لارجر بینچ بنایا گیا ہے۔

بینچ مجوزہ آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے علاوہ سینیٹ انتخابات کے لیے درخواست پر بھی سماعت کرے گا۔

گزشتہ روز سندھ ہائیکورٹ نے 26 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ پبلک کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت میں استفسار کیا تھا کہ آئین میں کہاں ہے کہ ترامیم کا مسودہ پبلک کیا جائے گا؟

پشاور ہائیکورٹ نے دائر درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا تھا۔

چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا تھا کہ اسی نوعیت کے اور کیسز بھی ہیں، اس کے ساتھ ان کو بھی سنیں گے، ہوسکتا ہے ان کیسز کے لیے ہم لارجر بنچ بھی تشکیل دیں۔

بعدازاں عدالت نے وفاق اور اٹارنی جنرل آفس کونوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

اسی طرح 8 اکتوبر کو پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس اور مجوزہ آئینی پیکیج کے خلاف ڈسٹرکٹ بار کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا تھا وجوہات بتائیں آئینی ترامیم کو پہلے کیوں چیلنج کیا ہے؟

عدالت نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کونوٹس جاری کردیا تھا اوردرخواست کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے والے دنوں میں ایک اہم آئینی ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، 16 ستمبر کو آئین میں 26ویں ترمیم کے حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے اور حکومت کو درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

کئی دن کی کوششوں کے باوجود بھی آئینی پیکج پر اپوزیشن بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں ناکامی کے بعد ترمیم کی منظوری غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دی گئی تھی۔

گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے موجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا تھا کہ بڑی کوششوں کے بعد اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور ہمارے مسودے میں ہم آہنگی ہے۔

12 اکتوبر کو مجوزہ آئینی ترامیم پر مشاورت کے لیے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لیے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

ذیلی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے 2 ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے، کمیٹی 2 روز میں سفارشات مرتب کرکے خصوصی کمیٹی کو دے گی۔

مشہور خبریں۔

وزیرِ اعظم کی مستونگ روڈ پر خود کش حملے کی شدید مذمت

?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں مستونگ

امریکی کانگریس کے درجنوں ارکان نے ایک بار پھر سینچری ڈیل ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

?️ 2 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جنوری

کاسا بلانکا اسٹیڈیم میں فلسطین کے لیے مغربی حمایت

?️ 25 اپریل 2022سچ خبریں:  مراکش کے الوداد کلب کے شائقین نے کاسا بلانکا میں

پاکستانی فوجی سربرہ کا ایران کے بارے میں بیان

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: پاکستانی فوج کے کمانڈر نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ

میانمار کی باغی فوج نے اپنے مخالف میڈیا اداروں کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

?️ 10 مارچ 2021میانمار (سچ خبریں) میانمار کی باغی فوج نے اپنے مخالف میڈیا اداروں

صیہونی حکومت کا غلط اندازہ؛ ایران نے جنگ کی مساوات کو کیسے بدلا؟

?️ 15 جون 2025سچ خبریں: جمہوریہ اسلامی ایران نے انتہائی قلیل وقت میں تل ابیب کو

سیکیورٹی خدشات کے باعث سائفر کیس کا اوپن ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا، خصوصی عدالت

?️ 28 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سائفر کیس میں سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان

بلوچستان ہائی کورٹ کا ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

?️ 28 اپریل 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان ہائیکورٹ نے حکومت بلوچستان کو تھری ایم پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے