?️
نیویارک: (سچ خبریں) پاکستان نے حوثیوں اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کو مثبت پیش رفت ، اہم سفارتی کامیابی اور یمنی فریقوں کے درمیان داخلی سیاسی مکالمے کو فروغ دینے کا موقع قرار دیدیا ہے یمن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اقوم متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے پالیسی بیان میں کہا کہ یہ موقع ضائع یا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے، اسے ایک جامع اور یمنی زیرقیادت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے.
عاصم افتخار نے یمن میں لاکھوں افراد کی مسلسل مصیبت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو ایک دہائی سے زائد جاری تنازع اور خصوصا بحیرہ احمر اور وسیع تر مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی سے مزید سنگین ہوچکی ہے عاصم افتخار نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ جو کبھی صرف داخلی نوعیت کا تھا، اب ایک پیچیدہ علاقائی و بین الاقوامی بحران بن چکا ہے جس کے سنگین انسانی، سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات ہیں.
عاصم افتخار احمد نے یمنی تنازع کے پرامن اور سیاسی حل کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا، اجلاس میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ، انڈر سیکرٹریی جنرل ٹام فلیچر اور دینا المامون نے کونسل کو تفصیلی بریفنگ دی پاکستانی مندوب نے سعودی عرب اور عمان کی طرف سے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ دسمبر 2023 کے روڈ میپ پر عمل درآمد کریں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کو اولین ترجیح دیں.
عاصم افتخار نے یمن کے تقریبا 2 کروڑ متاثرہ افراد کی سنگین ضروریات کو اجاگر کیا، جن میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایک کروڑ 20 لاکھ بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں عاصم افتخار نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ او سی ایچ اے کی انسانی امداد کی فوری اپیل پر فیاضی سے اور بروقت جواب دے، عاصم افتخار نے عالمی بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے تمام حملوں کی شدید مذمت کی اور سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملوں کی عدم موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے.
عاصم افتخار نے انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی مسلسل غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور یمن بھر میں محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کی ضرورت پر زور دیا عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی توجہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف فلسطینی عوام کی تکالیف میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں حالیہ کشیدگی سمیت وسیع تر علاقائی عدم استحکام کو بھی جنم دے رہی ہے پاکستانی سفیر نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کو ایک انسانی ضرورت اور علاقائی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا.


مشہور خبریں۔
نئے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی ایوان صدر میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
?️ 19 اپریل 2022لاہور (سچ خبریں)نئے وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سابق
اپریل
نیتن یاہو کی کابینہ کا جولانی کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر بات چیت کے لیے اہم اجلاس
?️ 21 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق، وزیر اعظم بنجمن نیتن
ستمبر
صیہونی جیل میں فلسطینی قیدی کی شہادت
?️ 12 فروری 2023سچ خبریں:48 سالہ فلسطینی قیدی احمد ابو علی اسیر کی النقب جیل
فروری
غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے تین ستون
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اکتوبر 2023 میں فلسطین میں آپریشن الاقصیٰ طوفان کے چند
جنوری
19 کروڑ پاؤنڈ اسکینڈل، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نیب تحقیقات کیلئے 7 جون کو طلب
?️ 2 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی احتساب بیورو کی جانب سے 19 کروڑ
جون
استنبول کے سابق میئر کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد ترکی میں احتجاجی مظاہرے دوبارہ شروع
?️ 19 اپریل 2025 سچ خبریں:ترکی کے استنبول شہر کے معزول میئر، اکرم امام اوغلو
اپریل
فلسطینی گروہوں کا آئینی مسودے پر شدید اختلاف
?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ریاستِ فلسطین کے لیے عبوری
فروری
بائیڈن ایران کے خلاف ڈیٹرنس پیدا کرنے میں ناکام:گلوبل ٹائمز
?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:سینئر تجزیہ کاروں نے امریکی صدر کے پہلے دورہ مغربی ایشیا
جولائی