پاکستان نے اپنے شہریوں کے یوکرین تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے یوکرین کے تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کے الزام کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے یوکرین تنازع میں مبینہ ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو حکومتِ پاکستان سختی سے مسترد کرتی ہے، یہ الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرینی حکام نے اب تک نہ تو حکومت پاکستان سے باضابطہ کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ایسے دعووں کی تائید میں کوئی مصدقہ یا قابلِ تصدیق شواہد پیش کیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق حکومتِ پاکستان اس معاملے کو یوکرینی حکام کے ساتھ اٹھائے گی اور اس حوالے سے وضاحت طلب کرے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرین تنازع کے پرامن حل کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے۔

پاکستانی جنگجو روس کیلئے لڑرہے ہیں، یوکرینی صدر کا الزام

قبل ازیں، خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا تھا کہ شمال مشرقی یوکرین میں تعینات ان کے فوجی غیر ملکی ’مرسنیریز‘ سے لڑ رہے ہیں جن کا تعلق چین، پاکستان اور افریقہ کے مختلف حصوں سمیت متعدد ممالک سے ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یوکرینی صدر نے لکھا کہ ’ہم نے کمانڈرز سے فرنٹ لائن کی صورتحال، ووچانسک کے دفاع اور جنگی پیش رفت پر گفتگو کی، اس سیکٹر میں ہمارے جوانوں نے اطلاع دی ہے کہ جنگ میں چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو شریک ہیں، ہم اس کا جواب دیں گے‘۔

میڈیا رپورٹس، جن میں 2023 کی ’بی بی سی‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی شامل ہے، میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو نجی امریکی کمپنیوں کے ساتھ 36 کروڑ 64 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کیا، جس کے تحت یہ اسلحہ مبینہ طور پر یوکرین بھیجا گیا۔

تاہم ان الزامات کو مختلف مواقع پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ، سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے مسترد کر دیا تھا۔

صدر زیلنسکی اس سے قبل بھی روس پر چین کے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں جسے بیجنگ نے رد کر دیا تھا، اسی طرح شمالی کوریا پر بھی یہ الزام لگ چکا ہے کہ اس نے ہزاروں فوجی روس کے کورسک خطے میں تعینات کیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

یوکرین کے شہر لوہانسک میں خوفناک دھماکے

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:   پہلا زور دار دھماکا جمعہ کی رات لوہانسک کے مضافات

امریکہ میں رہنے کی بڑھتی ہوئی قیمت

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ تجارت کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ

ہمیں صرف شکست کا سامنا ہوگا؛ امریکی سابق فوجی کا اعتراف

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی سابق فوجی اور تجزیہ کار لوکاس گیج نے ایران کے

جی ایچ کیو حملہ کیس: شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد

?️ 16 دسمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) اے ٹی سی راولپنڈی نے 9 مئی جی ایچ

ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا: امریکہ

?️ 24 فروری 2025 سچ خبریں:امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹس نے آج ایک

پیپلزپارٹی ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر کی حمایت کرتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری

?️ 9 ستمبر 2025سکھر (سچ خبریں) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ

خطے میں کسی جنگ میں امریکی شراکت دار نہیں بنیں گے: وزیر اعظم

?️ 16 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر جو بائیڈن

حماس کے سیاسی سربراہ کے حالیہ خطوط پر ایک نظر

?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: حماس کے سیاسی سربراہ یحیی سنوار کے الجزائر کے صدر،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے