?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے باہمی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے قومی مفادات کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
ماسکو میں روسی فیڈریشن کونسل سے خطاب کرتے ہوئے صادق سنجرانی نے کہا کہ میں خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میرا پہلا دورہ روس، پاکستان اور روس کے تعلقات کے 75ویں یوم تاسیس کے موقع پر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی روابط کا سلسلہ طویل عرصے پر محیط ہے، یقین ہے کہ ہمارے باہمی تعلقات بدلتے تقاضوں کے مطابق تابناک مستقبل کی جانب بڑھتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانا اور مشترکہ اہداف کی راہیں تلاش کرنا پاکستان کی سیاسی قیادت، بزنس کمیونٹی اور عوام کی دل کی آواز ہے، پاکستان کی کاروباری برادری نے روس کی ساتھ تعلقات بڑھانے میں زبردست دلچسپی ظاہر کی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاک۔روس دوستی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں پاک۔روس دوستی گروپ سربراہی ہمارے ایک سابق وزیراعظم کو سونپی گئی ہے جو سینیٹ کے رکن بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا سینیٹ آف پاکستان اور روسی فیڈریشن کونسل میں پاک۔روس دوستی کے پارلیمانی گروپس وجود رکھتے ہیں جن کا باہمی میل جول اور مکالمہ یقیناً دونوں ممالک کو قریب لانے میں مثبت نتائج فراہم کرے گا۔
صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ قوموں کے درمیان تعلقات کے فروغ میں مؤثر سفارت کاری اور پارلیمانی روابط کاری کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے، رواں برس پاکستان کی سینیٹ کی گولڈن جوبلی کی تقریبات میں ان موضوعات پر سیر حاصل بحث ہوئی، جس کے ایک سیشن میں پاکستان میں تعینات روسی سفیر نے بھی خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج کی دنیا بری طرح منقسم ہے، سیاسی اور اقتصادی شعبے ایک نئے مکالمے کا تقاضا کر رہے ہیں، ایسی کوششوں کا تقاضا کرتے ہیں جو تقسیم کی لکیروں کو کم کرے اور انسانیت کو قریب لائے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عالمی منظرنامے میں پاکستانی پارلیمنٹ اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے، نئے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک۔روس تعلقات لامحدود امکانات رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات نہ صرف پاکستان اور روس کے قومی مفادات کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں تنازعات کے سفارتی حل کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے اور تمام ذمہ دار ممالک سے امید رکھتا ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے مل کر کام کریں، ہم امید کرتے ہیں کہ کشمیر اور فلسطین کے دہائیوں پرانے تنازعات کو بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعلقات کے وسیع تر امکانات پیدا ہوں گے جس سے دونوں ممالک کے عوام مستفید ہوں گے، گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران پاک۔روس تعلقات میں مثبت پیش رفت ہم سب کے لیے خوش آئند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے 25 مئی 2023 کا دن خصوصی اہمیت کا حامل ہے جب روس اور پاکستان کے درمیان مال بردار شپنگ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا، اس کے نتیجے میں پہلا مال بردار جہاز سینٹ پیٹرز برگ سے کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے، یہ باہمی تعاون کے بےشمار امکانات میں سے محض ایک مثال ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی ملٹی ملین ڈالر کا جدید سسٹم چند ہزار ڈالر کے جنگی ڈرونز کے مقابلے میں ناکام
?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:امریکہ جدید نظاموں کی لانچنگ پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتا لیکن
جنوری
کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے مودی کے دورہ کشمیر کے موقع پر عمر عبداللہ کے بیان کی مذمت
?️ 14 جنوری 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی
جنوری
پنجاب حکومت کا گرانٹ اِن ایڈ پالیسی 2025 کا اعلان، مریم اورنگزیب سربراہ نامزد
?️ 5 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے گرانٹ اِن ایڈ پالیسی 2025 کا
ستمبر
پاکستانیوں کا ایران کے حق میں مظاہرہ، امریکی اور اسرائیلی مداخلت کی شدید مذمت
?️ 17 جنوری 2026سچ خبریں:پاکستانی شہریوں نے مختلف علاقوں میں مظاہرے کر کے ایران کے
جنوری
شام کے خلاف ترکی کی ایک بار پھر جارحیت،عوام کا کیا قصور؟
?️ 26 ستمبر 2023سچ خبریں: شام پر ترک فوج کے نئے حملے اور اس ملک
ستمبر
جو ہمارے شہدا کی توہین کرتا ہے ہم بھی ان کا احترام نہیں کریں گے، مریم نواز
?️ 5 جون 2023مظفر آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم
جون
اسرائیلی صدر کو دورہ لندن مین تنقید کا سامنا لوگوں نے گرفتاری کا مطالبہ کیا
?️ 10 ستمبر 2025اسرائیلی صدر کو دورہ لندن مین تنقید کا سامنا لوگوں نے گرفتاری
ستمبر
بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین، انسانی حقوق کے اداروں کو مقبوضہ جموں وکشمیرکا دورہ کرنے کی اجازت دے: حریت کانفرنس
?️ 24 نومبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
نومبر