وکلا کی ہڑتال کے باعث زیر حراست ملزمان کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ زیر حراست ملزم کو اس کے وکیل کی ہڑتال کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں ریمارکس دیے کہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے وکالت کے پیشہ ورانہ طرز عمل اور آداب کے اصول نافذ کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ  جب کوئی معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تو یہ وکلا کا فرض ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہوں اور کسی بھی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے تو اس سلسلے میں ’تسلی بخش متبادل انتظامات کریں۔

سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایک وکیل کو اپنے مؤکل کی جانب سے سونپی گئی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہیے۔

جسٹس عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ہر رشتہ اعتماد کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے اور جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے جس کے سماج پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 24 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے حکم کے خلاف شہباز اکمل کی اپیل پر سماعت کی تھی۔

درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ شاکر علی نے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے موکل کو 17 مئی 2018 کو ملتان میں قتل کے مقدمے میں 9 اپریل 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

وکیل شاکر علی نے استدلال کیا کہ درخواست گزار اس وقت سے زیر حراست ہے اور 2 سال ہوچکے لیکن اس کا ٹرائل مکمل نہیں ہوا، اس لیے وہ ضمانت کا مستحق ہے۔

وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 23 جون 2020 کو ٹرائل کورٹس کو 3 ماہ میں مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن درخواست گزار کی گرفتاری کو 4 سال گزر جانے اور عدالت عالیہ کے حکم کو جاری ہوئے 2 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ٹرائل مکمل نہیں ہو سکا۔

جب ٹرائل کورٹ سے رپورٹ طلب کی گئی کہ مقدمے کی سماعت مقررہ مدت میں کیوں نہیں مکمل کی گئی تو ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے اس تاخیر کی وجہ وکلا کی ہڑتال اور مقدمے کے کچھ شریک ملزمان کی عدم موجودگی کو قرار دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ آئین کہتا ہے اختیارات کا استعمال مقدس امانت ہے، اگر کسی زیر حراست ملزم کی نمائندگی کرنے والا وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوتا تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے اور اپنے مؤکل کا اعتماد توڑتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو حق حاصل ہے کہ اسے قانون کے تحفظ کا احساس رہے اور اس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے لیکن اگر وکلا ہڑتال کرتے ہیں اور مقدمات کی سماعت ملتوی ہو جاتی ہے تو اس صورت میں اس آئینی حق کی نفی ہو جاتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ آئین یہ بھی حکم دیتا ہے کہ ’کسی شخص کی آزادی کے لیے نقصان دہ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جو قانون کے مطابق نہ ہو، اس لیے اگر کسی زیر حراست ملزم کے ٹرائل میں ہڑتالوں کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے اور بعد میں اس ملزم کو بری کر دیا جاتا ہے تو ملزم کو اضافی حراست میں رکھنا اس کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2007 میں وکلا تحریک کے دوران کچھ اعلیٰ عدالتوں کی سربراہی وہ لوگ کر رہے تھے جنہوں نے اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آمر کی وفاداری کا حلف اٹھایا یا وہ لوگ سربراہ تھے جن کا تقرر آئین کے مطابق نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیےلوگوں کے مفادات اور ان کے تحفظ کے لیے آئین کی حفاظت اور اس کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ہڑتالیں کی گئیں اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ اگر کوئی وکیل کسی معاملے یا ذاتی وجہ سے ہڑتال پر جاتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ پہلے اپنے مؤکل سے وصول کی گئی فیس واپس کرے۔

اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ اس حکم کی وصولی کی تاریخ سے 2 ماہ کے اندر درخواست گزار کا مقدمہ تیزی سے مکمل کرے۔

مشہور خبریں۔

اسلام آباد اور بیجنگ کا سی پیک کو توسیع دینے کا عزم

?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور چین نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)

امریکی ایلچی کا بیان حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا لبنان کا اندرونی معاملہ ہے

?️ 22 جولائی 2025امریکی ایلچی کا بیان حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا لبنان کا

فنانشل ٹائمزکی فرانس اور جرمنی کے JCPOA کے خلاف کارروائی

?️ 31 جنوری 2023سچ خبریں:ایک انگریزی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین پاسداران

کورونا وائرس سے مقابلے میں جو بائیڈن مکمل طور پر ناکام ہوگئے

?️ 22 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن کورونا وائرس کے خلاف اپنے

آرمی فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری

?️ 18 اگست 2025سوات (سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں آرمی فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران

حکومت کا سابق وزیراعظم کے گوشواروں اور آمدن کی جانچ پڑتال کرانے کا فیصلہ

?️ 5 مئی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے گوشواروں اور

اردن میں ناکام بغاوت کے پیچھے سعودی-اسرائیلی اتحاد کا خفیہ منصوبہ

?️ 7 اپریل 2021(سچ خبریں) اسرائیلی اخبار یدیعوت احارنوت نے اردن کے معتبر ذرائع کے

ایران امریکہ معاہدہ پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے: عاصم منیر

?️ 26 مئی 2026 سچ خبریں: اسلام آباد کی ثالثی کوششوں میں تیزی کے ساتھ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے