بی بی سی شدید بحران میں

بی بی سی

?️

سچ خبریں:بی بی سی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں فعال ٹیلی ویژن لائسنسوں کی تعداد کم ہو کر 23.3 ملین رہ گئی ہے، جبکہ اشتراکی آمدنی میں بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بی بی سی نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں اس ادارے کے فعال ٹیلی ویژن لائسنسوں کی تعداد مالی سال 2025-2026 کے دوران 540 ہزار کم ہو کر 23.3 ملین رہ گئی ہے۔ ادارے کے ذمہ داران کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ذرائع ابلاغ کے استعمال کے انداز میں تبدیلی اور ناظرین کا اشتراک کی فیس کے تحت دستیاب مواد سے دور ہونا ہے، جس کے باعث بی بی سی کے مالیاتی نظام کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بی بی سی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق فعال ٹیلی ویژن لائسنسوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ان گھرانوں کی تعداد بھی 62 ہزار بڑھ کر 3.7 ملین ہو گئی ہے جنہوں نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ انہیں ٹیلی ویژن لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔

گزشتہ مالی سال کے اختتام پر بی بی سی کے فعال ٹیلی ویژن لائسنسوں کی تعداد 23.8 ملین تھی، جو اب کم ہو کر 23.3 ملین رہ گئی ہے۔

 مجموعی طور پر دہائی کے آغاز سے اب تک 2.5 ملین سے زیادہ لائسنس ختم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد 25.9 ملین سے کم ہو کر موجودہ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

بی بی سی کے مالیاتی سربراہ برانژر میشل نے رپورٹ جاری ہونے کے بعد کہا کہ ادارے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اب وہ مواد نہیں دیکھتے جس کے لیے ٹیلی ویژن اشتراک کی فیس ادا کرنا ضروری ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ رجحان نہ صرف جاری رہے گا بلکہ ممکنہ طور پر مزید تیزی اختیار کرے گا، اسی لیے بی بی سی کے مالیاتی ماڈل میں اصلاحات پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہیں۔

سالانہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوسرے نصف حصے میں بی بی سی کی مالی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ٹیلی ویژن لائسنسوں کی فروخت میں متوقع اندازوں سے زیادہ کمی، پروگراموں کی تیاری پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور ذرائع ابلاغ کی منڈی کی دشوار صورتحال نے ادارے کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ٹیلی ویژن اشتراک سے حاصل ہونے والی بی بی سی کی آمدنی میں بھی گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔ مالی سال 2016-2017 میں یہ آمدنی تقریباً 5.21 ارب پاؤنڈ تھی، جو مالی سال 2025-2026 میں کم ہو کر 3.87 ارب پاؤنڈ رہ گئی۔ اس طرح ایک دہائی کے دوران 1.34 ارب پاؤنڈ، یعنی تقریباً 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل میٹ بریٹن نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ صرف بی بی سی ہی نہیں بلکہ عوامی خدمت انجام دینے والے پورے ذرائع ابلاغ کے نظام اور خود برطانیہ کے لیے بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

 ان کے مطابق بی بی سی کا مشن پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے اور اب ادارے کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق ازسرنو تشکیل دینا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ برطانیہ کے 94 فیصد بالغ افراد ہر ماہ بی بی سی کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں، لیکن 80 فیصد سے بھی کم گھرانے ٹیلی ویژن اشتراک کی فیس ادا کرتے ہیں، جس سے ادارے کے مالیاتی نظام پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

گزشتہ ماہ بی بی سی نے خبر دی تھی کہ وہ خبروں، مواد کی تیاری اور علاقائی نشریاتی شعبوں میں اخراجات کم کرنے کا منصوبہ نافذ کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت مالی سال 2028-2029 تک مجموعی طور پر 500 ملین پاؤنڈ کی متوقع بچت میں سے تقریباً 160 ملین پاؤنڈ کی بچت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بی بی سی بورڈ کے سربراہ سمیر شاہ نے بھی سالانہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ مالیاتی ماڈل اب عوامی خدمت انجام دینے والے ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہا، اس لیے بی بی سی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ٹیلی ویژن لائسنسوں میں حالیہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بی بی سی کئی ماہ سے مالی بحران اور ناظرین کے رویوں میں تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہا تھا۔ ادارے نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ آمدنی میں کمی سے نمٹنے کے لیے آئندہ تین برسوں کے دوران اپنے عملیاتی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی جائے گی، جس کا اطلاق ادارے کے تمام شعبوں پر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق نشر و اشاعت کی نئی آن لائن خدمات کے پھیلاؤ اور ذرائع ابلاغ کے استعمال کے انداز میں تبدیلی بی بی سی کی اشتراکی آمدنی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

 دوسری جانب گزشتہ چند برسوں کے دوران بی بی سی کو سیاسی دباؤ، بعض بین الاقوامی واقعات کی غیر جانبدارانہ کوریج سے متعلق تنقید اور کئی داخلی تنازعات کا بھی سامنا رہا ہے۔

ان عوامل نے آمدنی میں کمی کے ساتھ مل کر اس برطانوی ادارے کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے دوچار کر دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

عراق اور امریکہ کے مذاکرات کے موقع پر سعودی چینل کی ایران کے خلاف جھوٹی خبریں

?️ 23 جولائی 2021سچ خبریں:عراق سے امریکی فوجی انخلا کے سلسلہ میں بغداد – واشنگٹن

غزہ شہر کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے لیے تل ابیب کی زخمی زمین کی پالیسی

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی

حلب کی انتظامیہ کو لے کر دہشت گردوں کے درمیان لڑائی، اہم رہنما ہلاک

?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ دہشت گرد گروپوں کے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں دھماکے میں 2 افراد ہلاک، 12 زخمی 

?️ 17 فروری 2026 سچ خبریں:شمال مغربی پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں ہونے والے ایک

غزہ میں امدادی مراکز موت کے جال بن گئے، انسانی حقوق کی آڑ میں صیہونی ظلم

?️ 27 جولائی 2025غزہ میں امدادی مراکز موت کے جال بن گئے، انسانی حقوق کی

مزار شریف دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

?️ 15 مارچ 2023سچ خبریں:افغانستان میں واقع مزار شریف میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ

فلسطینی گروپ: نیتن یاہو کسی بھی معاہدے کو روکتا ہے / اتحاد ہمارا سب سے اہم ہتھیار ہے

?️ 18 اگست 2025سچ خبرین: قاہرہ اجلاس کے بعد فلسطینی گروہوں کے رہنماؤں نے اس

کرم تنازعہ کے حل کیلئے مشران نے معاہدے پر دستخط کردیئے

?️ 28 دسمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ پاراچنار میں کرم تنازعہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے