?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں آنے والی پریشانی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہم نے امداد کے لیے پاکستان کا غلط تصور پیش کیا۔وزارت خارجہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی اُس تصویر کو اپنی زندگی میں دیکھا ہے جب پاکستان کا وزیر اعظم امریکا جاتا تھا تو امریکی صدر اس کا ایئرپورٹ پر استقبال کرتا تھا، اس کے بعد ہم نے برے وقت بھی دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی، اور میں اونچ نیچ آتی ہے، ہمارے ملک میں آنے والی پریشانی کے ذمہ دار ہم خود ہیں کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے، ہم نے خود کو استعمال ہونے دیا اور امداد کے لیے ملکی ساکھ کو قربان کردیا، صرف پیسے کے لیے عوامی مفاد کے خلاف خارجہ پالیسی بنائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلے 20 سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے لیے ایک خود ساختہ زخم تھا کیونکہ میں اس وقت فیصلہ سازوں کے قریب تھا، مجھے پتا ہے کہ اس وقت کیا خدشات تھے اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ خدشات پاکستان کے عوام سے متعلق نہیں تھے اور بدقسمتی سے مطمع نظر ڈالرز تھے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا جیسے بحران سو سال میں ایک بار سامنے آتے ہیں، ہم نے اس طرح کی مشکلات کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کا تصور مثبت ہے اور اس کی ایک مثال اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا حالیہ اجلاس ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اس کانفرنس میں جو ہمارا مقصد تھا وہ پورا ہوا ہے، تمام مسلم ملک اور اقوام متحدہ ہمارے مقصد کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم 15 اگست سے یہی کہہ رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت آپ کو پسند ہو یا نہیں ہمیں انسانیت کے لیے کھڑے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے انسانی بحران ختم کرنے کا آسان حل یہ ہے کہ ان کے اثاثے بحال کر دیے جائیں اور ان کے بینکاری نظام میں رقم کا فلو شروع کر دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنے آپ پر یقین ہونے چاہیے، ملک چھوٹا یا بڑا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے ایک ٹیم بن کر کام کیا اور او آئی سی کانفرنس کا کامیاب انعقاد ہوا، جب او آئی سی کا آئندہ اجلاس ہوگا تو اسے ہم اس سے بہتر انداز میں منعقد کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ملک میں صرف نظام ٹھیک کرنا ہے اور میرٹ کو اوپر لانا ہے، سب سے اہم قانون کی بالادستی ہے، کبھی کوئی قوم قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی کیونکہ وہاں اشرافیہ قابض ہوجاتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو سب سے پہلے میرٹ ختم ہوجاتا ہے، مافیاز کنٹرول کر لیتے ہیں اور ملک آگے نہیں جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد یہ ہے کہ کیسے ہم اپنی آبادی کو اوپر اٹھائیں جو اشرافیہ کے قابض ہونے کی وجہ سے نیچے چلی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، ہمیں ابھی صرف کرنٹ کاؤنٹ خسارے کے مسئلے کا سامنا ہے، جیسے ہی ہم نے یہ مسئلہ حل کیا ملک تیزی سے ترقی کرے گا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کے لیے عین الاسد کے خلاف ایران کے میزائلی آپریشن کے نتائج
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عراق میں امریکی
جنوری
امریکی ریاست کیرولائنا کے شاپنگ مال میں فائرنگ
?️ 14 جون 2026سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کے روز ریاست جنوبی کیرولائنا
جون
آپریشن عزم استحکام کے بارے میں مولانا فضل الرحمان کا بیان
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ کوئی پہلا
جولائی
ایران کے ساتھ جنگ اور یورپ میں بے قابو مہنگائی کا خطرہ
?️ 15 مارچ 2026سچ خبریں:ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز
مارچ
وی پی این کا استعمال ’غیراسلامی قرار‘ دینے پر اسلامی نظریاتی کونسل کو تنقید کا سامنا
?️ 17 نومبر 2024 سچ خبریں: ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات اور
نومبر
یمنی فوج نے امریکہ اور اسرائیل مخالف کارروائیوں کا اعلان کیا
?️ 21 مارچ 2024سچ خبریں:یمنی فوج نے آج منگل کے روز ایک بیان میں ام
مارچ
اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق، پاکستان کا تشویش کا اظہار
?️ 26 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب
نومبر
حماه؛ شہر پر شام کی فوج کا کنٹرول
?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں:شامی شہر حماه میں صورتحال میں امن کی خبریں آئیں ہیں،
دسمبر