?️
لاہور: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور صدر آصف علی زرداری ساتھ مل کر بیٹھیں تو ملک کے 70 سالہ بحران کا خاتمہ 70 دن میں ہو جائے گا۔
صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہان کے نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیے جائیں اور ان کے ویسے خیالات ہوں، جو نواز شریف کے پچھلے سال وطن واپسی کے دوران تھے تو ملک میں جاری 70 سالہ بحران کا خاتمہ ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کا نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے، ہم سیاست دانوں کو ساتھ بیٹھنا چاہیے لیکن اس سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین اور میثاق جمہوریت اہم سیاسی دستاویز ہیں، میثاق جمہوریت میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور پھر بات چیت میں پیش رفت ہوئی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم مذاکرات کو خلوص دل کے ساتھ کامیاب بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر آج پی ٹی آئی اپنے مینڈینٹ کی بات کرتی ہے تو پھر سابقہ دور کی بھی بات ہونی چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ سال 21 اکتوبر کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے اور مسائل کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل جانے کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی میں اضافہ ہوا، کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی کے مظاہروں اور حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
گزشتہ ماہ (نومبر) پی ٹی آئی کی ’فائنل کال‘ کے بعد کشیدگی مزید بڑھی تھی، جبکہ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ڈی چوک پر احتجاج کرنے والے درجنوں کارکنان کی موت ہوگئی ہے، تاہم اس دعوے کو حکومت نے مسترد کردیا تھا۔
اس کے بعد عمران خان نے مذاکرات کے لیے 5 اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔
دریں اثنا، اس کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تجویز پر پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے 22 دسمبر کو حکومتی کمیٹی تشکیل دی تھی، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے پہلی باضابطہ ملاقات 23 دسمبر کو ہوئی تھی۔
26 دسمبر کو چیئرمین سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) صاحبزادہ حامد رضا نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی جاری مذاکرات کو 31 جنوری تک منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔
وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی شامل ہیں جبکہ پیپلزپارٹی سے راجا پرویز اشرف، نویدقمر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی سے علیم خان، مسلم لیگ (ق) سے چوہدری سالک اور بلوچستان عوامی پارٹی سے سردار خالد مگسی شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
عمران خان نے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی بنیادی پارٹی رکنیت منسوخ کردی
?️ 26 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ دنوں
مئی
لاہور میں زبردست مظاہرے اعلی افسروں سمیت 5 افراد اغوا
?️ 18 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب پولیس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہےلاہور میں
اپریل
طالبان کو تسلیم کرنا ابھی بہت دور ہے:امریکی صدر
?️ 7 ستمبر 2021سچ خبریں:افغانستان میں پیش آنے والی صورتحال اور طالبان کی جانب سے
ستمبر
بشارالاسد کا دورہ چین کیوں اہم ہے؟
?️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں: شام کے صدر بشار الاسد تقریباً 2 دہائیوں کے بعد
ستمبر
صہیونی غزہ پر فاسفورس بم کیوں گرا رہے ہیں؟
?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: جبالیا کیمپ پر 6 ٹن فاسفورس بم گرانا صہیونیوں کے
دسمبر
آسٹریا کے سفارت کاروں نے صیہونی حکومت پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے
?️ 28 اگست 2025سچ خبریں: ایک کھلے خط میں آسٹریا کے درجنوں سفارت کاروں نے
اگست
امریکی ٹیکس دہندگان نے اسرائیل کی جنگ پر کتنا خرچ کیا؟
?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں:الخلیج آن لائن نے شائع کیا ہے کہ غزہ کے خلاف
دسمبر
مزاحمتی کمان مناسب آپشنز پر غور کرے گی: قماتی
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ لبنان کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی
نومبر