’منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد نئے ارکان منتخب ہو چکے، انہیں فریق بنائیں‘

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے نومنتخب اراکین اسمبلی کو کیس میں فریق بنانے کی ہدایت دے دی۔

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

منحرف اراکین نے اپیلوں پر دلائل کے لیے وکیل تبدیل کرتے ہوئے ایڈووکیٹ عمر اسلم کی خدمات حاصل کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر اسلم کا خیر مقدم کیا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد نئے ارکان منتخب ہو چکے ہیں۔ ایڈووکیٹ عمر اسلم نے کہا کہ مجھے گزشتہ شب ہی وکیل مقرر کیا گیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو تیاری کے لیے وقت دے دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ میں بڑے دلچسپ سوال کا جائزہ لینا ہے، نئے منتخب ہونے والے اراکین کو بھی فریق بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے منحرف رکن محسن عطا خان کھوسہ کو اپیل واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں 5 نومبر کو سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ کو آج کیس کی سماعت کرنا تھی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلی کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر عمران خان کی جانب سے دائر ر یفرنس پر تحریک انصاف کے 25 ارکان کو ڈی سیٹ کیا تھا۔ بعد ازاں منحرف اراکین نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

دریں اثنا سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیس کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ پچھلی سماعت پر 2 سوالات پوچھے گئے تھے، ایک سوال یہ تھا کہ ہائی کورٹ کی 62 ون ایف کے تحت ڈکلئیریشن کو برقرار رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، دوسرا سوال تھا کہ کیوں نہ حقائق کی روشنی میں مکمل انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آرٹیکل 187 کا اختیار استعمال کرے۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ عدالتی سوالات پر تحریری جواب تیار کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحریری سوال تیار کر کے آپ نے بہت اچھا کیا اس کو دیکھ لیں گے، وقت کی کمی ہے اور آئندہ ہفتے نئے ججز کی وجہ سے یہ بنچ دستیاب نہیں ہو گا، کوشش کریں گے کیس کسی ایسے بینچ میں لگے جس میں موجودہ بینچ کا کوئی رکن ہو۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے وقت کی کمی اور آئندہ ہفتے بینچ کی دستیابی نہ ہونے پر سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کے خلاف دوہری شہریت پر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا۔

محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا جبکہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی ‘غلط’ قرار دیا گیا تھا۔

فیصل واڈا پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔

فیصل واڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، مذکورہ کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کیس پر سماعت ہوئی۔

فیصل واڈا کی دوہری شہریت کے خلاف قادر مندوخیل کی جانب سے 2018 میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس وقت فیصل واڈا نے قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت وہ دوہری شہریت کے حامل اور امریکی شہری تھے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیصل واڈا نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں ایک بیانِ حلفی دائر کیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری نہیں ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ انہوں نے جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرایا تھا اس لیے آئین کی دفعہ 62 (1) (ف) کے تحت وہ نااہل ہیں۔

درخواست کی سماعت کے دوران سابق وزیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیصل واڈا نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے قبل انہوں نے اپنا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا۔

سماعت کے دوران فیصل واڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے ان کا پیدائشی سرٹیفکیٹ کمیشن میں جمع کروایا اور بتایا تھا کہ فیصل واڈا امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پیدا ہوئے تھے اور پیدائشی طور پر امریکی شہری تھے۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے محرم میں امن و امان، صفائی، خدمت کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت

?️ 6 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلی

پانچ سالہ امریکی سیاہ فام بچہ نسل پرستی کاشکار

?️ 28 مارچ 2021سچ خبریں:امریکی ریاست میری لینڈ کی پولیس نے 5 سالہ سیاہ فام

روس کا 24 گھنٹوں میں 700 سے زائد یوکرینی فوجیوں ہلاک کرنے کا دعوی

?️ 6 جون 2023سچ خبریں:روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ گزشتہ دن اور

عراق پر حملہ ظالمانہ تھا میرا مطلب یوکرین تھا: بش گاف

?️ 19 مئی 2022سچ خبریں:  امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش جنہوں نے 2003

افغان صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے، کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں

?️ 20 جولائی 2021کابل (سچ خبریں) افغان صدارتی محل کے قریب اس وقت 3 راکٹ

آئی ایم ایف، اسٹینڈ بائے معاہدے کے تحت ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

?️ 27 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو رواں مالی سال کے

اقوام متحدہ کا افغانستان میں انسانی بحران کی شدت کے بارے میں انتباہ

?️ 5 اگست 2026سچ خبریں: اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ترجمان اولگا

چین کے صدر کا سعودی عرب کے بادشاہ کے نام تحریری پیغام

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:  سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو چینی صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے