?️
اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ‘ہمارے نظام تعلیم نے معاشرے کو بھی تقسیم کیا ہوا ہے، تعلیم ہمیں دنیا دیکھنے کا طریقہ سکھاتی ہے لیکن جب تعلیم ہی مختلف ہوگی تو معاشرے میں تناؤ اور مشکل پیدا ہوگی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘جب ایک ہی چیز کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے گا، یکسانیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر کوئی ایک طرح سے سوچے، اس کی قدریں ایک جیسی ہونی چاہئیں، اگر ہماری قدریں مشترک ہوں گی تو پھر دنیا دیکھنے کے طریقے ان قدروں کے مطابق ہوں گی،کیونکہ تاثرات کا دائرہ کار ایک ہوگا لیکن ضروری نہیں ہے کہ سوچ ایک ہوگی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘قومیت کے جذبے کو بھی بیدار کرنا ہے، یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے، دنیا کے جتنے بھی بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک ہیں، ان میں قومی نصاب ہے، انگلینڈ، جاپان، چین اور دیگر ممالک میں قومی نصاب ہے’۔
شفقت محمود نے کہا کہ ‘ہم نے 72 سال میں قومی نصاب نہیں بنایا، تو اس سے قوم تقسیم ہوئی، یہ ناانصافی اور تقسیم بھی ہے، یہ ساری ناانصافی اور تقسیم صرف نصاب سے تو ختم نہیں ہوگی، نصاب ایک قدم ہے اور قدم لے رہے ہیں کہ ناانصافی بھی کم ہو اور تقسیم بھی کم ہو’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے تقسیم کی بڑی قیمت ادا کی ہے، اس لیے ہم یکساں تعلیمی نصاب کی ابتدا کر رہے ہیں، اس کے صرف محدود مقاصدنہیں بلکہ بڑے بڑے مقاصد ہیں اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس کو ایک اہم قومی سنگ میل کے طور پر دیکھا جائے گا’۔
یاد رہے ستمبر 2020 میں شفقت محمود نے کہا تھا کہ پاکستان کے تمام اسکولوں میں مارچ 2021 میں پرائمری تک یکساں تعلیمی نصاب ہوگا اور تعلیمی زبان انگریزی نہیں ہوگی بلکہ اردو یا مادری زبان ہوگی۔
انہوں نے کہا تھا کہ کہ ‘یکساں تعلیمی نظام کے لیے ہماری جستجو ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لیے 25 سے 30 سال لگ سکتے ہیں لیکن ہم نے اپنے منشور کے مطابق ابتدا کررہے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا اس نظام میں ناانصافی ہے، کارپوریٹ، سرکاری اور عدالتوں کی زبان انگریزی ہے اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہورہے ہیں۔
شفقت محمود نے کہا تھا کہ مارچ 2021 میں ایلیٹ انگلش میڈیم، کم فیس والے نجی اسکول اور مدارس سمیت پاکستان کے تمام اسکولوں میں پہلی جماعت سے پرائمری تک یکساں تعلیمی نصاب نافذ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تیاری کے لیے ہم نے سارے صوبوں کو شامل کیا اور قومی نصاب کونسل میں انگریزی اسکولوں کے لوگ، ماہرین تعلیم اور اتحاد تنظیم المدارس اور تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں’۔
وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ ہم نے زبان کے حوالے سے واضح کیا ہے پہلے 5 برسوں میں میڈیم اردو یا مادری زبان ہوگی، اگر کسی کی مادری زبان انگریزی ہوتو وہ انگریزی میں پڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ صوبوں کو اجازت دی گئی ہے اور اگر ماضی کو دکھا جائے تو مجھے نظر آتا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اردو ہوگی، سندھ کے چند علاقوں میں سندھی ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے صوبوں سے کہا کہ اگر آپ مادری زبان میں پڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہییں ہوگا۔


مشہور خبریں۔
ایران کے انتخابات کی پاکستان میں پھیلنے والی تصویر
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام محسنی اژهای نے آج دوسرے لوگوں
جون
یہودی اسرائیل سے کیوں بھاگتے ہیں؟
?️ 4 جون 2023سچ خبریں:میڈیا کے مطابق اسرائیل نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ
جون
برطانوی وزارت تجارت کی عمارت کے سامنے فلسطین کے حامیوں کا اجتماع
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: فلسطین کے حامیوں نے غزہ میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ
مئی
حزب اللہ کا وینزویلا پر امریکی فوجی حملے پر ردعمل
?️ 3 جنوری 2026سچ خبریں: لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے
غزہ پر قبضے کے بارے میں ٹرمپ کا تازہ ترین موقف
?️ 8 فروری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے متنازع غزہ منصوبے کا دفاع
فروری
عراق کی نئی حکومت کی تشکیل میں تیزی سے مکمل ہو سکتی ہے
?️ 21 نومبر 2025عراق کی نئی حکومت کی تشکیل میں تیزی سے مکمل ہو سکتی
نومبر
ہم یوکرین کی جنگ میں شریک ہیں:امریکی عہدہ دار
?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں:ٹرمپ انتظامیہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور مائیک پینس کے قومی
ستمبر
نیتن یاہو کا مضحکہ خیز دعویٰ: ہم جیتیں گے
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: والہ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی
نومبر