?️
اسلام آباد(سچ خبریں)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت کے ملک میں رائج سودی نظام کو غیرشرعی قرار دیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے، وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ دسمبر 2027 تک معاشی نظام کو سود سے پاک کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے سلمان اکرم راجا نے اپیل دائر کی ہے جبکہ چار نجی بنکوں نے بھی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔
اپیل میں وزارت خزانہ، وزارت قانون، چیئرمین بینکنگ کونسل اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سپریم کورٹ ریمانڈ آرڈر کے احکامات کو مد نظر نہیں رکھا۔
اپیل کے مطابق شرعی عدالت نے سیونگ سرٹیفکیٹس سے متعلق رولز کو خلاف اسلام قرار دیا ہے اور شرعی عدالت نےرولز میں ترمیم کا حکم دیا ہے۔اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل کو منظور کیا جائے۔
مزید درخواست کی گئی ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلہ میں اٹھائے نکات کی حد تک ترمیم کی جائے۔
خیال رہے 28 اپریل کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کے خلاف درخواستوں پر 19سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے اسے غیرشرعی قرار دے دیا تھا اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ تمام قرض سود سے پاک نظام کے تحت لیے جائیں اور دسمبر 2027 تک معاشی نظام کو سود سے پاک کیا جائے۔
چیف جسٹس شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی، جسٹس محمد انور اور جسٹس خادم حسین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر کیس کی سماعت کی تھی۔
وفاقی شرعی عدالت نے کہا تھا کہ کیس میں اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کی رائے لی گئی اور تمام فریقین نے سود سے پاک بینکنگ نظام کے بارے میں رائے دی۔
وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف درخواستوں پر 19 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے قرض ادائیگی میں تاخیر پر انٹرسٹ (سود) لینے پر پابندی عائد کردی تھی اور ویسٹ پاکستان منی لانڈر ایکٹ کو بھی خلافِ شریعت قرار دے دیا تھا۔
جسٹس سید محمد انور نے فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے اور ملک سے ربا (سود) کا خاتمہ ہر صورت کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ بینکوں کی جانب سے قرض کی رقم سے زیادہ وصولی ربا کے زمرے میں آتا ہے اور اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اور استحصال کے خلاف ہے۔
شرعی عدالت نے حکومت کو اندرون و بیرونی قرض سود سے پاک نظام کے تحت لینے کی ہدایت کی تھی۔
عدالت نے انٹرسٹ ایکٹ 1839 اور سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقوں کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے قرض ادائیگی میں تاخیر پر انٹرسٹ (سود) لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
شرعی عدالت نے یکم جون 2022 سے انٹرسٹ لینے سے متعلق تمام شقوں کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت تمام قوانین میں سے ’انٹرسٹ‘ کا لفظ فوری حذف کرے۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلامی اور سود سے پاک بینکاری نظام کے لیے پانچ سال کا وقت کافی ہے اور توقع ہے کہ حکومت سود کے خاتمے کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
فیصلے میں کہا تھا کہ اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا اور سود سے پاک بینکاری دنیا بھر میں ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں اور معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے لہٰذا وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل میں سیاسی تعطل برقرار؛انتخابات کے ابتدائی نتائج
?️ 24 مارچ 2021سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں عام انتخابات میں 89 فیصد ووٹوں کی گنتی
مارچ
عمران خان نے محمود اچکزئی کو حکومت کے ساتھ بات چیت کا مینڈیٹ دیا ہے
?️ 16 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے
جون
صیہونیوں نے شام میں شکست تسلیم کی ، بشارالاسد کو ہٹانے کی بات ختم
?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں: بعض عرب ممالک اور دمشق کے درمیان تعلقات کو معمول پر
نومبر
یونیسیف کی جانب سے افغانستان کے صحت اور تعلیم کے لیے 21 ملین ڈالر کی امداد
?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے افغانستان کے صحت
مارچ
قطر 2022 ورلڈ کپ کے نفرت انگیز
?️ 29 نومبر 2022سچ خبریں:گزشتہ دہائی میں صیہونیوں نے عوامی سفارت کاری اور میڈیا کے
نومبر
اسرائیلی جاسوسی مرکز کے خفیہ حصوں کی مکمل تباہی کا امکان
?️ 17 جون 2025سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملے
جون
آئی ایم ایف معاہدہ: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 روپے سستا
?️ 4 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر
جولائی
اسرائیل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ نیا کھیل
?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت ایسے حالات میں اماراتی حکام سے سکیورٹی کا مطالبہ
فروری