مرکزی بینک کے اقدامات کے باوجود اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 روپے مہنگا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 5 روپے اضافے کے بعد 305 کی سطح پر پہنچ گئی۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق آج اوپن مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر 5 روپے اضافے کے بعد 305 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 32 پیسے اضافے کے بعد 286 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو گزشتہ روز 285 روپے 68 پیسے پر بند ہوا تھا۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بتایا کہ جن لوگوں نے 310 روپے پر ڈالر خریدا تھا وہ اسے فروخت نہیں کر رہے بلکہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی ادائیگی کے نظام میں کارڈ کی بنیاد پر سرحد پار لین دین کے لیے بینکوں کو انٹربینک مارکیٹ سے امریکی ڈالر حاصل کرنے کی اجازت کی حکمت عملی کی وجہ سے 10 سے 20 روپے تک کم ہونے چاہیے تھے۔

مرکزی بینک کے 31 مئی کو اٹھائے گئے اقدام کی وجہ سے اگلے روز اوپن مارکیٹ مٰں ڈالر 15 روپے سستا ہوا تھا، تجزیہ کاروں کو توقع تھی کہ اوپن اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کا فرق کم ہوگا، جو بڑھ کر تقریباً 30 روپے تک پہنچ گیا تھا۔

ظفر پراچا نے نوٹ کیا کہ بجائے فرق کم ہونے کے، آج مارکیٹ مخالف سمت میں گئی اور اوپن مارکیٹ میں مقامی کرنسی کی قدر 5 روپے گر گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر (مرکزی بینک کے) سرکلر پر صحیح طریقے سے عمل کیا جاتا تو (انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ) فرق کم ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے متعلق حکومت کی پالیسیوں میں تضاد ہے اور کوئی بھی پالیسی مسئلہ حل نہیں کرسکتی۔

ظفر پراچا نے بتایا کہ اگر حکومتی پالیسیاں ایک پیج پر نہیں ہوں گی تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ناممکن ہوگا، ہمیں سری لنکا کی مثال سے سبق سیکھنا چاہیے، جس نے مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے صرف گرے مارکیٹ میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا، ہم ایسا گزشتہ 20 برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔

ٹریس مارک کی سربراہ کومل منصور نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارہ 1.8 ارب ڈالر کی توقع کے مقابلے میں 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا ہوگیا ہے حالانکہ یہ معمولی زیادہ ہے لیکن اس کی وجہ سے ممکنہ طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہو جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ بدستور دباؤ کا شکار ہے کیونکہ کافی درآمدات حوالہ / ہنڈی کے ذریعے کی جارہی ہیں، جس کی وجہ سے رسد کے مقابلے میں طلب زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی ادائیگی کے نظام میں کارڈ کی بنیاد پر سرحد پار لین دین کے لیے بینکوں کو انٹربینک مارکیٹ سے امریکی ڈالر حاصل کرنے کی اجازت دینے کے بعد اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر 11 روپے 50 پیسے اضافے کے بعد 299 روپے 50 پیسے کی سطح پر آگئی تھی۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں، سعودی وزیر خزانہ کا پاک-سعودی بزنس فورم سے خطاب

?️ 10 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سعودی وزیر سرمایہ کاری خالدبن عبدالعزیز الفالح نے

واٹس ایپ کی وہ سہولت جس سے اکثرصارفین واقف نہیں

?️ 4 اکتوبر 2021سان فرانسسکو(سچ خبریں) واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ایک ایسا فیچر

موشے یالون: نیتن یاہو اور ان کی کابینہ 7 اکتوبر کی شکست کی دستاویزات چھپا رہی ہے

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ موشے یاعلون نے نیتن

ٹرمپ کا اعتراف، حماس نے تمام زندہ اور ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی آزاد کر دیے

?️ 17 دسمبر 2025 ٹرمپ کا اعتراف، حماس نے تمام زندہ اور ہلاک شدہ اسرائیلی

پنجاب میں تبدیلی کی باتوں میں اب اثر نہیں رہا

?️ 18 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ

یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کردیا، نوید قمر

?️ 29 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے کہا ہے کہ

اندرون ملک سفر کے لئے مکمل ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے،

?️ 14 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک فضائی سفر

یمن کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قانونی طور پر جرم

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:  یمن کی قومی سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم عبدالعزیز بن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے