غیرقانونی مقیم افغانوں کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد ہیں، ترجمان پاک فوج

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں، افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی بنیادی وجوہات اب موجود نہیں، بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی نیوز) پر نشر کیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیا، ٹی وی چینلز کے مطابق یہ انٹرویو ایک جرمن میگزین کو دیا گیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے بہت منظم طریقے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر افغان مہاجرین کے انخلا کی ڈیڈ لائن میں متعدد بارتوسیع کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ’مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی افغان مہاجرین کو پناہ کی بنیادی وجوہات تھیں، جو اب موجود نہیں رہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہا پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔

’بھارت کے فوجی افسران پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث‘

انہوں نے کہا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران کے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد منظر عام پر آچکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش کر چکا ہے، بھارتی ریاستی ادارے بشمول آرمی شدد پسند سیاسی نظریات کے زیراثر ہیں، عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

’ریاست کے علاوہ کسی کو جہاد کے اعلان کا اختیار نہیں‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کی ریاست تمام غیر ریاستی عناصر کو بلا تفریق مسترد کرتی ہے، پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحےکے دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک – بھارت کشیدگی اور معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برادر ملک چین کے ساتھ بھی تعمیری اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکا نےکالعدم مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشت گرد نام نہاد لاپتا افراد کی فہرست میں بھی شامل تھے۔

مشہور خبریں۔

کینیڈامیں 7 پاکستانیوں کی اموات پر دفتر خارجہ کا ردّعمل

?️ 3 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کینیڈا میں آتشزدگی کے نتیجے میں پاکستان سے

ملک میں پہلی بار پیٹرول اتنا مہنگا ہونے جا رہا ہے

?️ 14 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں

’حیران کن تشبیہات‘: نگران وزیراعظم کاکڑ کے پاک-چین تعلقات کے امریکا-اسرائیل موازنے پر تنقید

?️ 22 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی جانب سے اقوام

کبھی کھیلنے کیلئے 9 مئی مل جاتا ہے، اب شیخ مجیب سے متعلق عمران خان کی ٹوئٹ مل گئی، سابق صدر

?️ 1 جون 2024کراچی: (سچ خبریں) سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک

افغانستان کے ساتھ ہم اپنا تعاون جاری رکھیں گے:فواد چوہدری

?️ 6 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری

وزیر خزانہ نے افغانستان کو بڑا آفر دیا

?️ 9 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ

’یو این کلائمیٹ چینج کانفرنس‘ میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فنانسنگ کا مسئلہ اٹھائیں گے، شیری رحمٰن

?️ 19 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے پاکستان کلائمیٹ چینج

پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے: شیخ رشید

?️ 4 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے