عید سے قبل خوشخبری: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی پریمیم کی وجہ سے 31 مارچ کو ختم ہونے والے اگلے 15 دن کے لیے تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے فی لیٹر تک کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق صارفین کے لیے یہ ریلیف ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی سے مشروط ہے، ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں اضافے یا کاربن ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کم شرح سود پر اضافی ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کی جاسکے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس کی شرح کی بنیاد پر پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 14 روپے کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 7 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ شامل ہے۔

پیٹرول کی کم قیمتوں کا تخمینہ اس کی بین الاقوامی قیمتوں اور درآمدی پریمیم میں کچھ کمی کی وجہ سے ہے، بینچ مارک برینٹ کی قیمتوں میں گزشتہ 10 دن کے دوران تقریباً 3 ڈالر فی بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔

ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت اس وقت 255 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہے، اور اس کی قیمت کم ہوکر 242 روپے تک آنے کا تخمینہ ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ قیمت 258 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے، جو کم ہو کر تقریباً 250 روپے ہو جائے گی، مٹی کے تیل کی سرکاری قیمت 168 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہے، لیکن یہ مارکیٹ میں 300 سے 350 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت اگلے 15 روز میں 153 روپے 34 پیسے سے کم ہوکر 146 روپے ہونے کا امکان ہے۔

پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ایچ ایس ڈی پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو افراط زر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر بھاری نقل و حمل کی گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، اور خاص طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔

حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کرتی ہے، اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے لیکن حکومت دونوں مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) وصول کرتی ہے، جس کا عام طور پر اثر عوام پر پڑتا ہے۔

قانون کے تحت حکومت کو پی ڈی ایل کو زیادہ سے زیادہ 70 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔

حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 16 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی وصول کرتی ہے، قطع نظر اس کے کہ ان کی مقامی پیداوار یا درآمدات کچھ بھی ہوں، اس کے علاوہ آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریباً 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن وصول کیا جاتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی سعودی عرب کے ساتھ دوستی سے مایوس

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:سعودی عرب میں کیے گئے ایک سروے میں معلوم ہوا کہ

نواز شریف، مریم نواز سے بنگلہ دیش کے مشیر مذہبی امور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

?️ 8 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف

ایران کا آئی اے ای اے سے تعاون معطل؛ یورپی یونین کا ردعمل

?️ 29 جون 2025 سچ خبریں:یورپی یونین نے ایران کی جانب سے آئی اے ای

سال 2023: سندھ رینجرز کی 163 کارروائیاں، 197 ہائی پروفائل ملزمان گرفتار

?️ 31 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سال 2023 میں رینجرز نے سندھ بھر میں دہشتگردوں

عراقی عوام کا سویڈن کو سبق

?️ 20 جولائی 2023سچ خبریں: عراق میں سویڈن کے سفارت خانے پر حملہ مقدس کتابوں

امریکہ کا ایران میں حکومتی تبدیل کرنے کے منصوبے کی ناکامی کا اعتراف

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے

غزہ میں اسرائیلی جاسوس کو خصوصی مشن کے ساتھ دی گئی پھانسی 

?️ 28 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں صیہونی حکومت کی فوج کے ایک جاسوس

وزیراعلی سندھ کا اگلے ہفتے سے میرٹ پر نوکریاں دینے کا اعلان

?️ 29 نومبر 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے