عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال

?️

لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انور حسین نے توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال دی۔

جسٹس انور حسین نے کہا کہ جسٹس عابد حسین چٹھہ بھی اسی نوعیت کی درخواست پر سماعت کررہے ہیں، اس لیے دونوں درخواستوں کو اکٹھا کرنا مناسب ہوگا۔

جسٹس انور حسین نے مذکورہ درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کرتے ہوئے سفارش کی کہ جسٹس عابد حسین اسی نوعیت کی درخواست پر سماعت کررہے ہیں اس لیے اس درخواست کو بھی اسی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

وکیل محمد آفاق کی جانب سے دائر مذکورہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم کو کرپشن کے الزام میں نااہل قرار دیا اور انہیں این اے 95 میانوالی سے ڈی سیٹ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 اور پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی دفعات کے تحت سیاسی جماعت کے عہدیداروں کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے معیار پر پورا اترنا چاہیے، تاہم عمران خان بطور پی ٹی آئی چیئرمین عہدے پر برقرار رہ کر ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

درخواست گزار نے اس کیس کا بھی حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی سے ہٹا دیا تھا۔

درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ وہ الیکشن کمیشن کو عمران خان کو پی ٹی آئی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے اور پارٹی کے نئے سربراہ کی نامزدگی کی ہدایت جاری کرے۔

جسٹس انور حسین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک درخواست چیف جسٹس کو ارسال کردی جس میں پنجاب میں افسران کے تبادلے اور تعیناتیوں کے لیے نگران حکومت کے اختیارات چیلنج کیے گئے تھے۔

جج نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا، تاہم الیکشن کمیشن کے ایک وکیل نے جج کو بتایا کہ اسی طرح کی درخواستیں 3 مختلف ججوں کے سامنے پہلے ہی زیر التوا ہیں۔

اس پر جسٹس انور حسین نے فائل چیف جسٹس لاہور ہوئی کورٹ کو ارسال کردی جس میں درخواست کی گئی کہ تمام یکساں درخواستوں کو ایک جج کے سامنے پیش کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر فواد چوہدری کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نگران حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر تبادلوں/تعیناتیوں کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 کی شقوں پر جانچے بغیر الیکشن کمیشن سے منظور کروایا جا رہا ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کے 10 مارچ کو جاری کردہ غیر قانونی نوٹیفکیشن کو مسترد کیا جائے جس کے تحت الیکشن کمیشن نے نگران حکومت کو پیشگی منظوری لیے بغیر صوبے میں افسران کے تبادلے اور تعیناتیوں کی مکمل اجازت دے دی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون میں وسعت

?️ 15 جولائی 2025 سچ خبریں:انڈونیشیا کے وزیر دفاع کے دورۂ پاکستان میں وزیر اعظم

فلسطینی قوم مزید ذلت قبول نہیں کرے گی، مزاحمت ہی واحد راستہ ہے؛حماس کا اعلان

?️ 15 مئی 2025 سچ خبریں:فلسطین پر قبضے (نکبہ) 77ویں برسی کے موقع پر حماس

بھارت اپنے بیانیے کی وجہ سے آگ سے کھیل رہا ہے، اگر جنگ چاہیے تو جنگ سہی، ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 21 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد

روس کا جاپان کے اقدامات کا سخت جواب دینے کا اعلان

?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں:روس کے نائب وزیر خارجہ آندری رودینکو نے کہا ہے کہ

اسپین نے اسرائیل کے ساتھ 250 ملین یورو کے دفاعی معاہدے منسوخ کر دیے

?️ 4 جون 2025سچ خبریں:اسپانوی میڈیا کے مطابق، حکومت اسپین نے اسرائیل کے ساتھ 250

1200 عرب دانشوروں کا عرب حکام کو میمورنڈم

?️ 16 فروری 2025 سچ خبریں:1200 سے زیادہ عرب اور فلسطینی سیاسی مفکرین نے ریاض

صہیونی آبادکاروں کی وحشیانہ کارروائیاں کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں؛ صہیونی اپوزیشن لیڈر کا اعتراف

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں:صہیونی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپڈ نے تسلیم کیا ہے کہ مغربی

مسک کی امریکی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کی متنازع تجویز

?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں: ایلون مسک، ٹیک ارب پتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے