علما سے کوئی اختلاف نہیں، ہماری شکایت صرف صدرمملکت سے ہے، فضل الرحمٰن

?️

پشاور: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے معاملے کو غیر ضروری طورپر الجھا دیا گیا ہے، ہمارا علما سے کوئی اختلاف نہیں ، ہماری شکایت صرف اور صرف ایوان صدر اور صدر مملکت سے ہے، حکومت کے منظور کردہ بل پر صدر نے اعتراض کیوں کیا؟

ڈیرہ اسمٰعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج کل سیاست میں مدارس کی رجسٹریشن پر بحث کی جارہی ہے، دینی مدارس کی رجسٹریشن کےلیے بل حکومت نے تیار کیا تھا، ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر الیکشن سے قبل شہباز شریف کی حکومت میں لائے جانے والے مسودے کو منظور کرنے کا مطالبہ کیا، اس کے بعد بل کو دونوں ایوانوں سے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکے گئے، جس مسودے کی تیاری میں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں شریک تھی اس کے بعد صدر آصف علی زرداری کے اس پر گنجائش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سب معاملے میں اور تمام تر مراحل میں کیا ریاستی ادارے شامل نہیں تھے؟

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے ان علمائے کرام یا مدارس کی وہ تنظیمیں جو ڈائریکٹریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے تحت رجسٹریشن کررہے یا کرچکے اس کا سارا نزلہ ہم پر کیوں گررہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ معاملے کو غیر ضروری طورپر الجھادیا گیا، جنہوں نے علما کو بلایا وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے علما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کسی مدرسے، مدرسوں کی تنظیم یا علما سے اختلاف نہیں ہے، جنہوں نے مسودہ تیار کیا ان کے کہنے پر یہ شور برپا کررہے ہیں، الیکشن سے قبل جو مسودہ تیار کیا تھا وہ بھی تو سرکار نے بنایا تھا، ہمیں مدارس کی نئی تنظیموں، وفاق کے بنائے جانے پر ہمیں تحفظات ہیں، کیا مدارس کی ان تنظیموں کو تقسیم کرنے میں اداروں کا ہاتھ نہیں تھا؟ جس نے یہ تقسیم کی تھی کیا وہ باقی تمام معاملات میں مجرم تھا اور اس حوالے سے صحیح تھا،

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ علمائے کرام سے کہنا چاہتا ہوں کہ جن کے اشاروں پر آپ نے محاذ اٹھایا ہے یہی اس سب کے ذمہ دار ہیں، آپ کس کے ساتھ لڑائی لڑ رہے ہیں، ڈی جی ایک ایگزیکیٹیو آرڈر کے تحت بنا ہے، ہم ایک اس ملکی قانون کے ساتھ وابستہ ہونا چاہتے ہیں جس کے تحت ملکی رفاہی، تعلیمی ادارے، این جی اوز رجسٹر ہورہے ہیں، صرف دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سوال کیوں پیدا کیا جارہا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ایکٹ آپ لائے ہو.

ہماری شکایت صرف ایوان صدر اور صدر مملکت سے ہے، آئینی ترمیم پر دستخط ہوگئے تو پھر اس بل پر دستخط کیوں روکےگئے؟

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی، ہمارا ذمہ دار صرف ایوان صدر ہے، کیا صدر مملکت پارلیمان سے منظور کردہ بل پر 2 مرتبہ اعتراض بھیج سکتا ہے؟

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کے دورے کا راز افشا، تل ابیب اور ابوظہبی کے تعلقات میں بڑا تضاد

?️ 19 مئی 2026سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل نے امارات اور صیہونی ریاست کے درمیان ایک

صیہونی حکومت کا اچیلس پر طوفانی حملہ

?️ 4 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی صدر کو لے جانے والا شہری طیارہ الاقصیٰ طوفان کے

سیلاب کی وجی سے افغانستان اور پاکستان کی سرحدیں بند

?️ 26 اگست 2022سچ خبریں:    صوبہ قندھار کے مقامی ذرائع نے اعلان کیا ہے

سعودی عرب کی یمن جنگ میں امریکہ سے امداد طلب

?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں:یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں ہونے کی وجہ

وزیر خارجہ کی ترکمانستان کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر زور

?️ 26 اگست 2021اشک آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ترکمانستان پہنچے جہاں انہوں

خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

?️ 29 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف

2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے

اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک جائیں گے

?️ 17 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے