عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے، میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے۔

عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی، پریس ایسوسی ایشن اور پی ایف یو کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی۔

اس دوران درخواست گزار فیاض محمود ، رضوان قاضی اور عقیل افضل عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجازِ گیلانی اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے، پیمرا نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے، میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے، پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے، صرف سنسنی خیز ٹکر چلانے پر مسئلہ ہوتا ہے۔

عدالت کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا اس معاملے سے تعلق ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے جواب دیا کہ یہ پیمرا کا معاملہ ہے، وفاقی حکومت کا تعلق نہیں ہے۔

بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا نے جس قانون کا سہارا لیا ہے اس میں زیر سماعت مقدمات رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے، کیس کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کردی گئی۔

خیال رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے زیر سماعت عدالتی مقدمات سے متعلق خبر یا ٹکرز چلانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

پیمرا کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ خبروں، حالات حاضرہ اور علاقائی زبانوں کے تمام ٹی وی چینلز زیر سماعت عدالتی مقدمات کے حوالے سے ٹکرز اور خبریں چلانے سے گریز کریں اور عدالتی تحریری حکمناموں کی خبریں بھی رپورٹ نہ کریں۔

اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت، ٹریبونل میں زیر سماعت مقدمات کے ممکنہ نتیجے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تبصرے، رائے یا تجاویز و سفارشات پر مببنی کوئی بھی مواد نشر نہ کیا جائے۔

بعد ازاں، عدالتی رپورٹنگ کے حوالے سے صحافتی تنظیموں نے پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا تھا۔

صحافتی تنظیموں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی جانب سے عائد پابندی کا جائزہ لیا گیا۔

صحافتی تنظیموں نے پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیمرا نوٹیفکیشن کو آزادی صحافت اور آزاد عدلیہ کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کا آئین آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے اور پیمرا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرنے پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ پیمرا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19۔اے کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور مطالبہ کیا کہ عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔

مشہور خبریں۔

سابق آسٹریلوی وزیر خارجہ: نیتن یاہو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں

?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں: آسٹریلیا کے سابق وزیر خارجہ گیریٹ ایونز نے کہا ہے کہ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں ؟

?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں: Axios نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل

طالبان کے پاس فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کے انتخاب کےعلاوہ کوئی آپشن نہیں، فیلڈ مارشل

?️ 8 دسمبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) چیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل

اسپین کا مشرق وسطیٰ کی جنگ کے لیے فوجی امداد دینے سے انکار

?️ 17 ستمبر 2026سچ خبریں:اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلبارس نے مشرق وسطیٰ کی

سابق حکمرانوں کی توجہ صرف ذاتی مفادات پرتھی: عثمان بزدار

?️ 23 اگست 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سابق حکمرانوں

بلاول بھٹو زرداری کی خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

?️ 25 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خلیج تعاون کونسل

اپنی جغرافیائی سرحدوں کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔ اسحاق ڈار

?️ 23 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا

غزہ میں اسپتال حالات نہایت سنگین ہیں اور عملے کے پاس بنیادی طبی سہولتیں بھی موجود نہیں

?️ 27 اگست 2025غزہ میں اسپتال حالات نہایت سنگین ہیں اور عملے کے پاس بنیادی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے