شرح سود میں کمی کے امکان پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

?️

کراچی: (سچ خبریں) شرح سود میں کمی کے امکان پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر زبردستی تیزی کا رجحان ہے، بینچ مارک 100 انڈیکس 2 ہزار 75 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 16 ہزار کی نئی حد بھی عبور کرگیا۔

پی ایس ایکس کی ویب سائٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز مارکیٹ زبردست تیزی کا رجحان برقرار ہے، کاروبار کے دوران دوپہر 12 بجکر 9 منٹ پر 100 انڈیکس 2 ہزار 93 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 16 ہزار 341 کی سطح پر پہنچ گیا۔

یاد رہے کہ جمعo کو کاروباری ہفتے کے اختتام پر مارکیٹ ایک لاکھ 14 ہزار 301 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آج اگلے دو ماہ کے لیے پالیسی ریٹ کا اعلان کرے گی۔

قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ افراط زر میں کمی کے باعث شرح سود میں کمی کی کافی گنجائش ہونے کے باوجود اسٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرے گا۔

شرح سود میں کٹوتی کی توقعات کے حوالے سے مالیاتی ماہرین اور صنعت و تجارت کے شعبوں میں وسیع فرق پایا جاتا ہے۔ اگرچہ کاروباری ادارے معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے 400 سے 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم معاشی تجزیہ کاروں نے 200 سے 300 بی پی ایس کی زیادہ قدامت پسندانہ کٹوتی کی پیش گوئی کی ہے۔

کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر افراط زر کی شرح نومبر میں تیزی سے گر کر 4.9 فیصد پر آگئی، جس سے حقیقی شرح سود انتہائی مثبت 10 فیصد پر رہ گئی کیونکہ موجودہ پالیسی ریٹ 15 فیصد ہے۔

اگرچہ اس سے شرح سود میں کٹوتی کی کافی گنجائش پیدا ہوتی ہے، لیکن تجارتی و صنعتی نمائندوں کے مطالبے کے برخلاف اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرنے کا امکان نہیں ہے۔

مرکزی بینک جون کے بعد سے چار وقفوں میں شرح سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 15 فیصدپر لے آیا ہے لیکن وہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں زبردست کمی کا تعاقب کرنے میں ناکام رہا ہے، جو نومبر میں 78 ماہ کی کم ترین سطح 4.9 فیصد پر پہنچ گیا تھا۔ حکومت اور مارکیٹ کے ماہرین نے سی پی آئی پر مبنی افراط زر کی شرح 6 سے 8 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق بظاہر یہ اچھا ہے لیکن سی پی آئی میں تیزی سے کمی بھی کم معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر جب حکومت اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں نے مالی سال 2025 میں معاشی ترقی کا تخمینہ 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان لگایا ہے۔

مالیاتی ماہرین نے یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرنے سے بینکاری نظام غیر مستحکم ہوگا اور افراط زر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں اور محققین نے اپنی رپورٹس میں اندازہ لگایا ہے کہ دسمبر میں افراط زر مزید کم ہو کر 3.5 سے 3.9 فیصد رہ جائے گا، اس طرح شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش پیدا ہوگی، تاہم، وزیر خزانہ نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ یہ کمی 300 بیسس پوائنٹس سے زیادہ نہیں ہوسکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

خطہ میں امریکی موجودگی کی وجہ،سینٹکام کمانڈر کی زبانی

?️ 24 مئی 2021سچ خبریں:سینٹکام دہشت گردوں کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب

عمران خان نے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی بنیادی پارٹی رکنیت منسوخ کردی

?️ 26 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ دنوں

امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کی محدودیت کی قرارداد کو منظوری دے

?️ 20 مئی 2026سچ خبریں: امریکی سینیٹ نے بدھ کی صبح 50 ووٹوں کے مقابلے

یوکرین میں نو نازیوں کے جرائم میں امریکہ اور انگلینڈ شریک

?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں:    اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دمتری پولیانسکی

پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے اہم اقدامات

?️ 24 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)دنیا بھر میں آج انسداد پولیو کا عالمی دن منایا

امریکی عوام کا اسرائیل سے نفرت میں اضافہ؛ نتن یاہو کا اعتراف

?️ 11 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی نوجوانوں میں اسرائیل کے بارے

پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل لانے کی واحد امید

?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: کسی بھی بڑے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے

West Java to review Meykardah project amid alleged bribery case

?️ 8 اگست 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے