سیاسی بحران میں ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات میں اضافہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سرمایہ کاروں کو ڈیفالٹ سے بچانے والے 5 سالہ انشورنس کنٹریکٹ ’کریڈٹ ڈیفالٹ سویپس‘میں سیاسی بحران اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان گزشتہ روز تیزی سے اضافہ ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق ریسرچ فرم عارف حبیب لمیٹڈ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز سی ڈی ایس 75.5 فیصد تک بڑھ گیا جو کہ ایک روز قبل تک 56.2 فیصد تھا۔

واشنگٹن میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات کے شیڈول میں ردوبدل کر دیا گیا تھا لیکن مذاکرات جاری ہیں، تاہم میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو مذاکرات نومبر کے اوائل میں شروع ہونے تھے وہ رواں ماہ کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ رواں سال کے شروع میں بحال ہونے والے قرض معاہدے کے تحت درکار دیگر اقدامات کیے جانے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

لیکن ڈان سے بات کرنے والے سرکاری ذرائع نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں ورلڈ بینک کی رپورٹ کے اجرا کے بعد مذاکرات کو از سر نو ترتیب دیا گیا تھا۔

پاکستان کو 5 سالہ سکوک یا اسلامی بانڈز کی میچورٹی پر 5 دسمبر کو ایک ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، وزیر خزانہ متعدد مرتبہ سکوک رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کراچکے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ یقین دہانیوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں جب کہ ملکی معیشت مارکیٹوں، ڈونرز، کمرشل بینکوں اور دوست ممالک سے مزید قرض لے کر ڈیفالٹ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سی ڈی ایس میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس سے حکومت کے لیے بانڈز یا تجارتی قرضوں کے ذریعے مارکیٹوں سے زرمبادلہ اکٹھا کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ملک کو اپنی غیر ملکی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 32 ارب سے 34 ارب ڈالر درکار ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو رواں مالی سال کے دوران تقریباً 23 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان اب بھی آئی ایم ایف پروگرام میں موجود ہے جس کی وجہ سے اسے ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے رقوم حاصل ہو رہی ہیں۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے رواں مالی سال میں مالیاتی خسارہ 1500 ارب روپے تک کم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پہلی سہ ماہی میں خسارہ بڑھنے سے صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

مالیاتی شعبے کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف لیکویڈیٹی بڑھانے اور مالیاتی خسارے میں اضافے سے بچنے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اس تمام صورتحال میں حکومت کو کم از کم 800 ارب روپے کی ضرورت ہے جو صرف نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں جو کہ موجودہ خراب معاشی صورتحال، سیاسی بے چینی اور عدم استحکام کے درمیان حکومت کے لیے مشکل اقدام ہے۔

مشہور خبریں۔

جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں بڑا حادثہ، فوج کی گاڑی کھائی میں گری، 5 جوانوں کی موت

?️ 28 دسمبر 2024جموں: (سچ خبریں) جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں منگل کی

غزہ میں صیہونی جرائم دنیا نسلوں تک یاد رکھے گی: سابق صیہونی وزیراعظم

?️ 4 اکتوبر 2025سچ خبریں:سابق صیہونی وزیراعظم ایہود باراک نے نیتن یاہو پر سخت تنقید

حکومت کو دہشتگردی کیخلاف اپوزیشن کے ساتھ ملکر ایک بیانیہ بنانا چاہیے

?️ 24 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے

العروری کے خون کا بدلہ قدس کی آزادی 

?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:اسامہ حمدان نے کہا کہ قابض حکومت کی فوج کی ناقابل

پیپلز پارٹی کے بغیر بھی آگے بڑھیں گے:اپوزیشن

?️ 19 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے

جوبائیڈن کا روسی صدر کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان، وائٹ ہاؤس نے صفائی پیش کردی

?️ 21 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے روسی صدر پوٹن

مغربی کنارے پر صیہونی جارحیت جاری؛ طولکرم میں فلسطینی بچہ شہید

?️ 8 فروری 2025سچ خبریں:صیہونی قابض افواج نے مغربی کنارے میں اپنی جارحانہ کارروائیوں کا

بائیڈن اور وینتن یاہو کا ایک نیا مشورہ

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں:نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے