سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق منظورہ کردہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترامیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں ایکٹ منظوری کے خلاف 4 درخواستیں دائر کی گئیں ہیں، 2 درخواستیں وکلا اور دو درخواستیں شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا ہے کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں، سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے، آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بل کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا جو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ 8 رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اظہر حسن رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 28 مارچ کو وفاقی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد 29 مارچ کو قومی اسمبلی سے متعدد ترامیم کے بعد منظور کرلیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کے وقت حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے اس بل کی بھرپور حمایت کی تھی تاہم چند آزاد اراکین نے اسے عدلیہ پر قدغن قرار دیا تھا۔

بعد ازاں 30 مارچ کو سینیٹ سے بھی اکثریت رائے سے منظور ہوا تھا۔

سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ آئے تھے جبکہ بل کی شق وار منظوری کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑی اور احتجاج کیا اور شور شرابا کیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد 30 مارچ کو باقاعدہ توثیق کے لیے صدر مملکت کو ارسال کردیا تھا۔

دوسری جانب صدر مملکت نے 8 اپریل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 اختیارات سے باہر قرار دیتے ہوئے نظرثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا تھا۔

ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجوادیا اور کہا ہے کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے۔

صدر مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ مذکورہ بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے لہٰذا بل کی درستی کے بارے میں جانچ پڑتال کے لیے دوبارہ غور کرنا چاہیے، اس لیے واپس کرنا مناسب ہے۔

حکومت نے صدرمملکت کی جانب سے واپس بھیجے جانے کے بعد گزشتہ روز (10 اپریل) کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دوبارہ منظور کرلیا۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف سے 230 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

?️ 22 اکتوبر 2025ٹرمپ کا امریکی محکمہ انصاف سے 230 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

حریت کانفرنس کا میر واعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو خراج عقید ت

?️ 19 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

یمن کے غزہ جنگ میں داخل ہونے سے مغربی ممالک کیوں پریشان ہیں؟

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونیوں کے خلاف لڑائی کے میدان میں یمنی مسلح افواج

امریکی سینیٹرز نے بائیڈن سے یوکرین پر تبصرہ کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 23 فروری 2022سچ خبریں:   سینیٹ کے رہنما چاک شومر نے بائیڈن کے سینئر حکام

امریکی موٹرسوار گروہ "انفائیڈلز” غزہ کی امدادی مراکز میں کیا کر رہا ہے؟

?️ 14 ستمبر 2025غزہ کی پٹی اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ طویل

امریکہ یوکرین کے فوجی حل پر اصرار کرنا بند کرے: چین

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ

فلسطین کی حمایت نہ کرنے والے عرب غدار ہیں: اسلامی جہاد

?️ 8 اکتوبر 2024سچ خبریں: الاقصی طوفان آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر سرایا القدس

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری

?️ 8 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے