سول اور ملٹری بیوروکریسی کے نرغے میں آئے بغیر حکومتیں نہیں چل پاتیں، خواجہ سعد رفیق

?️

لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ملک میں حکومتیں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے نرغے میں آئے بغیر نہیں چل پاتیں۔

اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر چور، کرپٹ، اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ، بھارتی ایجنٹ، اسرائیلی ایجنٹ ، غدار ، امریکی ایجنٹ، نااہل ، بدکردار سمیت دنیا بھر کے الزامات اور القابات عائد کرنا ہماری قومی سیاست کا محبوب مشغلہ اور بیانیہ بن چکا ہے، یہ باتیں سنُتے سنُتے لوگوں کے کان پک چُکے اور دماغ تھک چکُے ہیں کیوں کہ ہر سیاسی جماعت اور سیاسی قائدین انہی الزامات کا نشانہ بنے اور اب بھی پاکستانی سیاست میں دائروں کا سفر جاری ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ لیکن افسوس بلوچستان کا آتش فشاں کیسے سرد ہوگا؟ خیبرپختونخواہ میں امن کیسے لایا جائے؟ پانی کی منصفانہ تقسیم کیسے یقینی بنائی جائے؟ خسارے کا شکار سرکاری ادارے نجی تحویل میں کیسے دیئے جائیں؟ حکومتی حجم کم کیسے کیا جائے؟ بجلی چوری کی روک تھام اور سستی بجلی کی فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے؟ فوری اور سستا انصاف کیسے دیا جائے؟ ریاستی ادارے آئین کی حدود میں کیسے رکھے جائیں؟ ملک کے پسماندہ علاقے کیسے ترقی یافتہ بنائے جا سکتے ہیں؟ چھوٹے انتظامی یونٹس کیوں ضروری ہیں؟ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیسے ہوگی؟ ٹیکسیشن کا منصفانہ اور شفاف نظام کیسے لایا جائے؟ رشوت اور سفارش کی لعنت سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟ انتخابی سیاست میں عام آدمی کی شمولیت کیلئے انتخابی عمل شفاف اور سستا کیسے ممکن ہو؟

سینئر سیاستدان نے کہا کہ اہم ترین اور پیچیدہ قومی مسائل پر سٹیک ہولڈرز کے مابین مکالمہ کرنے پر غور و خوض اور ان کے حل تجویز کرنے کی معنی خیز کوشیشیں کسی سیاسی جماعت کی ترجیحات نظر آئیں نہ محسوس ہوئیں، ملک پر حکومت کرنے کی دعویدار اور خواہشمند جماعتیں مختلف موضوعات پر تھنک ٹینک بناتی ہیں نہ سبجیکٹ سپیشلسٹس کی خدمات حاصل کرکے کوئی روڈ میپ تیار کرنا ضروری سمجھتی ہیں اسی لیے ان کی حکومتیں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے نرغے میں آئے بغیر نہیں چل پاتیں۔

ن لیگی رہنماء کہتے ہیں کہ کئی برس تک ہم یہ باتیں جماعتی فورمز پر اٹھاتے رہے لیکن بے سود رہا، کسی سیاسی جماعت نے مذکورہ موضوعات پر ہوم ورک کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ آپ ووٹ کی طاقت سے آئیں یا لائے جائیں، تمام تر اخلاص اور کوشش کے باوجود ایک دن رسوائی لاد کر رخصت ہو جاتے ہیں، واضح ہوجانا چایئیے کہ اپنے نظریات اور تنظیم کو پس پشت ڈالنے والے کوئی انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جوہری تبدیلی ممکن ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات سے شام کے اتحاد کو خطرہ

?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے

’ریاست خطرے میں ہے‘ مولانا فضل الرحمان کا حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان

?️ 16 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل

 ٹرمپ کے نئے ٹیکسز پر عالمی ردعمل؛ تجارتی جنگ کا خدشہ

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف ممالک کی درآمدات پر

اسرائیلی جنگی جہازوں کا غزہ کے ساحل پر حملہ 

?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے 41ویں روز

بی جے پی حکومت کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو دیوار کیساتھ لگا دیا ہے، سیاسی ماہرین

?️ 29 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

وزیرِ اعظم  4 روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ

?️ 3 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد

بائیڈن کا ایک بار پھر چیک اپ، وجہ؟

?️ 29 فروری 2024سچ خبریں: ریاستہائے متحدہ کے صدر نے کہا کہ وہ آج بدھ

پارلیمانی کمیٹی کی 2 ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

?️ 8 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے