?️
سوات: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے شہر سوات میں دہشتگردی کی لہر کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی جبکہ پختون رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران علاقے کے درجنوں افراد کو قتل کیا جا چکا ہے لیکن پارلیمنٹ اور عدلیہ دونوں ان اموات پر خاموش ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی رہنماؤں نے تحصیل کبل کی کانجو چوک پر سوات اولاسی پسون کی جانب سے نکالی گئی ایک بڑی ریلی میں شرکت کی۔
صوبے بھر سے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور کبل کے علاقے میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت پر دھماکے، لکی مروت تھانے پر حملے اور کرم کے اسکول میں 8 اساتذہ کی ہلاکت سمیت صوبے میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی مذمت کی۔
امن مارچ سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان، پی ٹی ایم کے منظور پشتین، رکن صوبائی اسمبلی علی وزیر، اے این پی کے ایوب خان، سوات قومی جرگہ کے شیرشاہ خان، پختون خواہ میپ کے طالع مند خان، پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر امجد علی، پی ٹی آئی کے تحصیل چیئرمین سعید خان اور دیگر نے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے ہاتھوں درجنوں افراد کی متعدد حملوں میں جانیں چلی گئیں لیکن بدقسمتی سے پارلیمنٹ اور مین اسٹریم میڈیا میں سے کسی نے بھی ان کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔
احتجاج کے دوران شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستانی ٹی وی چینلز کرکٹ میچ اور ہاتھی کی لاش دکھاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے پختونوں کی کوریج نہیں کرتے جس سے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت میڈیا بھی پختونوں کے ساتھ نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سیاسی مقدمات کی سماعت میں مصروف ہیں لیکن پختون بیلٹ میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو نظر انداز کر دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ پختون علاقوں میں 22 سے زیادہ فوجی آپریشن کیے گئے لیکن ان سب کا مقصد امن بحال کرنا نہیں بلکہ امریکی ڈالر اکٹھا کرنا تھا، یکم جنوری سے 30 اپریل تک خیبرپختونخوا میں کم از کم 120 پولیس اہلکار مارے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی چھاؤنیوں کو برطانوی راج کی علامت سمجھتے ہوئے ختم کر رہا ہے لیکن پاکستانی فوج ملک میں ان چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے۔
رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے کہا کہ ریاست کی غلط پالیسیوں نے خوبصورت اور پرامن سوات کے علاقے کو بارود بھرے جہنم میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پختونوں کے پاس ریاست کی دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین نے سوال اٹھایا کہ ملک میں دہشت گرد کس نے پیدا کیے اور جدید ہتھیار پھیلائے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرونی قوتوں نے ملک میں دہشت گردی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ 20 سے زائد فوجی آپریشن کیے گئے لیکن وہ مٹھی بھر دہشت گردوں کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔
منظور پشتین نے کہا کہ دہشت گردی کی حقیقت سے پختون بخوبی واقف ہیں اور اس بار دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
مقررین نے کہا کہ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پختون عوام ڈالروں کے لیے لڑی گئی جنگ میں اپنا خون بہانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ کبل میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت پر دھماکے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئے اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے کہا کہ اگر ملک میں پختون سرزمین پر دہشت گردی کا ایک اور واقعہ پیش آیا تو اگلا احتجاج کھلی جگہوں یا بازاروں کے بجائے کنٹونمنٹ ایریاز کے باہر کیا جائے گا۔


مشہور خبریں۔
جولان میں مزید معاون فوجوں کی آمد
?️ 12 دسمبر 2024سچ خبریں: نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نے نیوز
دسمبر
یوکرین کے بحران میں امارات اور سعودی عرب کے درمیان الگ ڈیل کی کہانی
?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں: روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی پر متحدہ عرب
مارچ
مضبوط معیشت کے بغیر قوم اہداف حاصل نہیں کرسکتی:آرمی چیف
?️ 5 اکتوبر 2022واشنگٹن: (سچی خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مسلح
اکتوبر
خواجہ آصف کا بانی پی ٹی آئی کو عجیب مشورہ
?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر عمران
جولائی
نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے شہبازشریف سے مشاورت نہیں کریں گے
?️ 26 ستمبر 2021جہلم (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ
ستمبر
عراقی وزیر اعظم کا فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے اعلان
?️ 24 فروری 2026عراقی وزیر اعظم کا فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے اعلان عراق
فروری
کراچی میں وزیر اعظم ہاوس کے قریب اساتذہ کا احتجاج
?️ 23 مارچ 2021کراچی(سچ خبریں)اساتذہ نے اپنی سروس کو مستقل کا مطالبہ کرنے کے لئے
مارچ
کامیاب جوان پروگرام ہمارے منصوبوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہوگا
?️ 24 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے افسوس
نومبر