سنی اتحاد کونسل کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

?️

لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ ہتک عزت بل کے خلاف سنی اتحاد کونسل عدالت میں جا رہی ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ ہتک عزت بل مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہے، نہ تو بل کو کمیٹی کو بھیجا اور نہ اس پر ترامیم لی گئی، یہ بل ان کے مسلط کردہ لوگوں کی طرف سے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ اس وقت پنجاب کے لیے مضر بن گئی ہے، وزیر اعلی پنجاب نے ہر کمیونٹی کو ڈسٹرب کیا، اس بل کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کریں گے، پنجاب کے کندھے پر بندوق رکھ کر پورے ملک کو کنٹرول کرنا چاہتے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے، پیپلز پارٹی آزادی صحافت کے ساتھ ہے تو بجٹ پاس نہ ہونے دیں، ہتک عزت بل 2024 کے خلاف سنی اتحاد کونسل عدالت میں جا رہی ہے۔

اس سے قبل جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور سینئر صحافی اور اینکر پرسن اوریا مقبول جان نے گورنر پنجاب کو خط لکھ کر اس بل کو منظور کیے بغیر اسمبلی واپس بھجوانے کی درخواست کی تھی۔

خط میں کہا گیا تھا کہ تک عزت کا قانون آئین کے آرٹیکل 19 کے منافی ہے، اس قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار رائے کو روکا گیا جو بنیادی حق کے خلاف ہے، ہتک عزت قانون معلومات تک رسائی کے شہریوں کے حق میں بڑی رکاوٹ ہے۔

بعد ازاں، پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو مزید مشاورت اور نظرثانی کے لیے اسمبلی میں واپس بھیجنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

سردار سلیم حیدر نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک بل نہیں دیکھا، لیکن جو کچھ میں نے سنا ہے اور ملک بھر میں ہونے والے تنازعات سے ایسا لگتا ہے کہ بل پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پنجاب اسمبلی میں رواں ہفتے اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کے تحفظات اور احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت کا پیش کردہ ہتک عزت بل 2024 منظور کر لیا گیا تھا۔

صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے بل کو صحافتی برادری پر شب خون قرار دیا تھا۔

صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والے ہتک عزت بل 2024 کے تحت ٹی وی چینل اور اخبارات کے علاوہ فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام پر بھی غلط خبر یا کردار کشی پر 30 لاکھ روپے ہرجانہ ہوگا۔

کیس سننے کے لیے ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے جو 180 دنوں میں فیصلے کے پابند ہوں گے۔ آئینی عہدوں پر تعینات شخصیات کے کیسز ہائی کورٹ کے بینچ سنیں گے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی جاسوسی پروگرام کے ذریعے بھارتی رہنماؤں کی جاسوسی کا معاملہ، راہل گاندھی کا مودی حکومت پر بڑا حملہ

?️ 24 جولائی 2021نئی دہلی (سچ خبریں)  اسرائیلی جاسوسی پروگرام پیگاسوس کے ذریعے بھارتی رہنماؤں

افغانستان میں اسلام میں خواتین کا کردار کے موضوع پرایک اجلاس منعقد

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد نے مزید تفصیلات

یوکرائن حکومت کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ

?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی کمیٹی کے خصوصی

ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی چوری کی افواہیں

?️ 18 فروری 2023سچ خبریں:ترکی کے سرکاری میڈیا نے ایک ترک شخص کی گرفتاری کی

14 سال بعد پی آئی اے نے اسلام آباد سے اپنی پرواز بحال کر دی

?️ 20 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سیاحت

ریکوڈک ریفرنس: وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی قانونی شقوں کا جائزہ لیں، سپریم کورٹ

?️ 21 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے سے متعلق صدارتی

اسٹیٹ بینک نے کرنسی مارکیٹ سے 5.5 ارب ڈالر خرید لیے

?️ 28 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے دسمبر کے

منظم شیطانی مافیا(4)؛سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کی دنیا کا خاتمہ

?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:سعودی عرب میں 90 لاکھ غیر ملکی کارکن مقیم ہیں جنہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے