سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی تائید کردی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے اور ثالثی عدالت کے کردار کو محدود کرنے کا اقدام درست نہیں، حکومت نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے مستقل عدالت برائے انصاف کے تحت ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے اور ثالثی  عدا لت کے کردار کو محدود کرنے کا اقدام درست نہیں۔

حکومت پاکستان ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی تائید اور بھارت کے یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے اقدام کو معاہدے کی رو سے غیر قانونی قرار دینا خوش آئند سمجھتی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اس حوالے سے واضح مؤقف ہے کہ پاکستان، جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہے۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ثالثی عدالت کا کردار نمایاں ہے اور معاہدے کی معطلی کے بھارتی اقدام سے عدالت کی فیصلہ سازی کی حیثیت بالکل متاثر نہیں ہوتی۔

فیصلے کے متن کے مطابق کسی ایک فریق کے معاہدہ معطلی کے یکطرفہ فیصلے سے عدالت اپنی کاروائی نہیں روکے گی اور سندھ طاس معاہدے پر فیصلہ سازی جاری رکھے گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لیا ہے، اور سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی شق شامل نہیں، سندھ طاس معاہدے کا اطلاق پاکستان اور بھارت کے اسے معطل کرنے کے متفقہ فیصلے کے بغیر جاری رہے گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کوئی بھی فریق یعنی بھارت یکطرفہ طور پر کسی بھی مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کاروائی کو روک نہیں سکتا، مسائل کے حل میں ثالث کے کردار کو روکنے کی کوشش سندھ طاس معاہدے میں موجود ثالث کے ذریعے تنازعات کے حل کی لازم شق کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلے کے متن کے مطابق ان تمام حقائق کی روشنی میں عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر ثالثی کاروائی روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے تنازعات کے حل کیلئے ثالثی عد الت اپنا ذمہ دارانہ، منصفانہ اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر غیر قانونی طور پر آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف پاکستان نے 2016 میں ثالثی عد الت سے رجوع کیا تھا، بھارت نے اس کیلئے ثالثی عد الت سے غیر جانبدار ماہر کی تعیناتی کی استدعا کی اور اس پر عدالت میں کارروائی پہلے سے جاری ہے۔

بھارت نے ثالثی عد الت سے معاہدے کی نام نہاد یکطرفہ معطلی کے بعد ثالثی عدالت کی کاروائی معطل کرنے کی استدعا کی تھی جسے آج مسترد کر دیا گیا۔

مشہور خبریں۔

سمرقند شنگھائی تنظیم کے ممالک کے صدور کے اجلاس کا میزبان

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:     شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے صدور کا

سی این این پر مقدمہ کروں گا: ٹرمپ

?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کی جانب

خیبر پختونخوا: عام انتخابات 2024 کی تیاریوں کیلئے اجلاس، خصوصی اقدامات کا فیصلہ

?️ 13 جنوری 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں عام انتخابات 2024 کی تیاریوں کے

حماس کا غزہ کے ساتھ عالمی یکجہتی کا اعلان کرنے کا مطالبہ

?️ 29 نومبر 2024سچ خبریں: تین روزہ کال کے دوران فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک

سیاسی تعصب کے بغیر افغانوں کی مدد کریں:طالبان کی عالمی براداری سے اپیل

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:افغانستان کے نائب وزیر اعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا

قابضین کے ساتھ کوئی جنگ بندی نہیں: حماس اور اسلامی جہاد

?️ 17 اپریل 2022سچ خبریں:  مسجد الاقصی میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی جرائم میں اضافے

ٹک ٹاک سے شروع ہونے والی ٹرمپ کی صدارت

?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں:دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک

آئینی بینچ نے سویلینز کے اب تک کیے گئے ملٹری ٹرائلز کی تفصیلات طلب کرلیں

?️ 16 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے وزارت دفاع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے