?️
سچ خبریں:امریکی جریدے فارن افیئرز نے گزشتہ نصف صدی کے دوران دنیا میں واشنگٹن کی فوجی مہم جوئی کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔
امریکی جریدے فارن افیئرز نے کارنیگی تھنک ٹینک کے سیاسی محقق جینیفر کاوناگ اور RAND ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاسی ماہر برائن فریڈرک کی واشنگٹن کی فوج کے گزشتہ نصف صدی کے دوران دنیا میں مہم جوئی کے سلسلہ میں تحقیق میں نتائج کا جائزہ لیا ہے۔
فارن افیئرز نے قارئین کو اس محقق کے تحقیقی نتائج فراہم کیے ہیں جو حیران کن اور نئے نتائج پر مشتمل ہیں،مختصر تعارف کے ساتھ، اس امریکی جریدے نے 1946سے2018 کے دوران امریکہ کی غیر ملکی مداخلتوں کو مایوس کن اور مکمل ناکامی قرار دیا ہے اور امریکی فوج کی سیاسی مفادات کے حصول میں ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے۔
جینیفر کاوناگ اور برائن فریڈرک نے اپنے مشترکہ مضمون میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے اپنی سرحدوں کے باہر امریکی فوج کی زیادہ تر فوجی کاروائیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غیر ملکی فوجی مداخلت میں وائٹ ہاؤس کے سابق اور موجودہ سربراہان کے عمومی نقطہ نظر کے برعکس، صومالیہ، ہیٹی سے لے کر افغانستان، عراق اور لیبیا تک شمالی افریقہ اور دیگر علاقوں میں اس ملک کی فوجی کاروائیوں کا نتیجہ مایوس کن اور مکمل ناکامی سے دوچار ہے۔
اس تحقیق کے مطابق پچھلی نصف صدی کے دوران واشنگٹن کی بڑی غیر ملکی فوجی مداخلتوں اور مہمات کے باوجود مہنگے اور مایوس کن نتائج سامنے آئے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام کا ایڈونچر کے لیے جوش و جذبہ نہ صرف کم ہوا ہے بلکہ اس میں شدت آئی ہے۔
ان دونوں محققین نے 1946 سے 2018 کے دوران جن اعدادوشمار کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے اس میں سویڈن کی یونیورسٹی آف اوپسالا کے شماریاتی ذرائع اور عالمی بحرانوں کے رویے کا تجزیہ کرنے والے خصوصی ڈیٹا مائننگ پروگرامز کا حوالہ دے کر تحقیق اور تجزیہ کیا گیا ہے۔
محققین کے نتائج کے مطابق 1946 سے 2018 تک جن 222 تنازعات اور بحرانوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مفادات کسی نہ کسی طور پر وابستہ رہے ہیں، ان میں سے 50 معاملات میں واشنگٹن نے براہ راست مداخلت کی اور باقی 172 میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا،اس ثبوت کی بنیاد پر، یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی براہ راست مداخلت کے 50 معاملات میںاس کے اہداف اور فوائد کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی حاصل ہوا ہے۔
اس سلسلے میں یہ دونوں محققین وائٹ ہاؤس کے سربراہان کو ان نتائج کے بعد مشورہ دیتے ہیں کہ واشنگٹن کو فوری طور پر اپنی فوجی مداخلتوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اس نقطہ نظر کو روکنا چاہیے کہ فوجی مداخلت اور مہم جوئی ہی ممکنہ فوجی خطرات کا واحد حل ہے۔
اس تحقیقی مقالے کے مطابق امریکہ دشمنی کا اصل خطرہ نہ صرف فوجی مہم جوئی میں ہے، بلکہ حقیقی خطرہ غیر حقیقی طویل مدتی توسیع پسندانہ اہداف کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مداخلتیں ہیں ،یہ واشنگٹن کے رہنماؤں کو مزید مشورہ دیتے ہیں یہ غلط حالات میں فوجی طاقت کا استعمال ناکامی اور تباہی کے ساتھ مداخلتوں کا باعث بن سکتا ہے اور بنیادی طور پر بڑے پیمانے پر فوجی مہمات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
آخر میں دونوں سیاسی محققین کا خیال ہے کہ امریکی فوج بیرون ملک سیاسی مداخلتوں کے لیے مناسب طریقے سے تیار نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اپنی فوجی طاقت سے کسی حکومت کی سیاسی اتھارٹی کو گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کے پاس مناسب متبادل ڈھانچہ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور اگر وہ طویل المدتی خانہ جنگی میں پھنس جاتی ہے تو اس کے پاس سلامتی اور استحکام قائم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔


مشہور خبریں۔
پاکستانی نیٹ ورکس کو سائبر سیکیورٹی، وی پی این کے استعمال میں رسائی والی کمپنیوں سے خطرات لاحق
?️ 21 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی نیٹ ورکس کو سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے
فروری
نتن یاہو کے ایران سے متعلق دعوے پر زاخارووا کا ردعمل: غلط پتہ نہ دیں
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے صہیونی حکومت کے
اپریل
مذاکرات کے لئے بھارت کو مناسب ماحول پیدا کرنا ہوگا
?️ 17 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار
اپریل
اب بسیں بھی آپ کے لیے محفوظ نہیں: صیہونی آباد کاروں کو وارننگ
?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:فسلطینی مزاحمتی تحریک نے صیہونی آبادکاروں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ
ستمبر
کراچی آرٹس کونسل کا 38 روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول منعقد کرنے کا اعلان
?️ 28 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان نے رواں سال بھی
اگست
اقوامِ متحدہ: دنیا بھر میں چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی
?️ 13 جون 2026سچ خبریں: اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے دنیا بھر میں چائلڈ
جون
ضرورت محسوس ہوئی تو 27ویں آئینی ترمیم بھی ہو جائے گی۔ قمر زمان کائرہ
?️ 25 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) رہنما پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ
جولائی
نیتن یاہو "شباک” کی سربراہی کے لیے کس کا انتخاب کریں گے؟
?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شاباک کے سربراہ رونن بار
مئی