پاکستانی مفکرین کی عالمی یوم قدس کے موقع پر اسلامی اتحاد کو مضبوط بنانے پر تاکید

پاکستان

?️

سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کی جانب سے راولپنڈی میں فلسطین اور بین الاقوامی نظام میں دوہرا معیار کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان کی ممتاز سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

راولپنڈی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کی جانب سے فلسطین اور بین الاقوامی نظام میں دوہرا معیار کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں موجود مفکرین اور ممتاز سیاسی و مذہبی شخصیات نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم قدس کے انعقاد پر مبنی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے فیصلہ کن کردار کے مالک امام خمینی کے تاریخی فرمان کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کے جرائم اور انسانیت سوز اقدامات کے خلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت کی حمایت پر زور دیا،اس اجتماع میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ثقافتی گروپوں کے نمائندوں بشمول جماعت اسلامی، مجلس وحدت مسلمین اور میڈیا کے ارکان نے شرکت کی۔

اس اجتماع میں مقررین نے فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے نہ ختم ہونے والے جرائم اور ظلم و ستم کی طرف اشارہ کیا نیز خطے کے حکمرانوں بالخصوص اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والوں کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا کے مسلمانوں کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین اور اس مظلوم قوم کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی کے افکار اور رہنما اصولوں پر عمل کریں۔

اس کانفرنس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے جماعت اہل الحرام پاکستان کے سربراہ مفتی گلزار نعیمی نے کہا کہ صیہونیوں نے آج فلسطینی عوام کا قتل عام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اس غاصب حکومت کے کارندے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف شیطانی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کے سربراہ رحمان زاد نے کہا کہ مسلمانوں کی جانب سے اتحاد اور ہم آہنگی ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے اور صیہونی حکومت کے قیام کے لیے سامراجی نظام کی تمام تر حمایت کے باوجود ہم اسلامی اتحاد سے فلسطین کا دفاع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ مختلف طریقوں سے فلسطین کی حمایت کی ہے اور اس راہ میں ہم نے جانوں کا نظرانہ بھی پیش کیا ہے جن میں سب سے نمایاں شہید جنرل حاج قاسم سلیمانی ہیں۔

پاکستانی سچ ٹی وی نیوز چینل کے سربراہ علامہ افتخار حسین نقوی نے کہا ہے کہ القدس کی قابض حکومت نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سمجھوتے کے مذاکرات کی بارہا خلاف ورزی کی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کبھی عمل نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام فلسطینی مزاحمتی جماعتیں اس ملک کے عوام کے ساتھ ہیں،انہوں نے ہمیشہ صیہونیوں اور فلسطین کے دشمنوں کے ارادوں کو متزلزل کیا ہے ،ناصر شیرازی نے فلسطین کانفرنس میں مقبوضہ فلسطین کے جاری بحران اور مزاحمتی محاذ کے سامنے صیہونیوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت اس وقت ایک مخدوش صورتحال میں گرفتار ہے؛ درحقیقت مسجد الاقصی پر اس حکومت کی شیطانی قوتوں کے حالیہ حملے صہیونیوں کے غصے کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ فلسطینی عوام اور لبنانی حزب اللہ ان کی تمام تر سازشوں کے خلاف قیمتی فتوحات حاصل کر چکی ہیں اور غاصب اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کو ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مشہور خبریں۔

یورپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا امکان

?️ 5 مئی 2026 سچ خبریں:ایک معروف عبری اخبار معاریو نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں

ظہیر احمد بابر نئے ایئر چیف مقرر،وزیر اعظم نے تقرری کی منظوری دے دی

?️ 17 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ائیر مارشل ظہیر احمد بابر پاکستان کے نئے

لازارینی: اسرائیل غزہ میں روزانہ 100 شہریوں کا قتل عام کرتا ہے

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر نے یہ بتاتے

ایشیائی ترقیاتی بینک کی کلین انرجی ٹرانسمیشن کیلئے 33 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان

غزہ میں جنگ بندی کے لیے صیہونی حکومت کا نیا منصوبہ

?️ 20 ستمبر 2024سچ خبریں: صہیونی کان نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی

امن مذاکرات میں شرکت کیلئے ایرانی جواب کا تاحال انتظار ہے۔ عطا تارڑ

?️ 21 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے

رفح میں اسرائیل کا قتل امریکہ کے عطیہ کردہ بموں سے

?️ 29 مئی 2024سچ خبریں: سی این این نے دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ماہرین کا حوالہ

سائفر کیس: عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر وفاق، ایف آئی اے کو نوٹس جاری

?️ 22 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں سابق وزیراعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے