?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور سرکاری ادارے براہِ راست چلانے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
ابرار احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’رائٹ سائزنگ‘ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں، جب کہ کئی حکومتی کمپنیاں جو کاروبار کر رہی ہیں، وہ منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں۔
سیکریٹری کے مطابق ان کمپنیوں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا، اس دوران غیر ضروری سرکاری ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے گا اور مختلف وزارتوں میں ان کا انضمام کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اب نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے، کیونکہ ریاست اداروں کو براہِ راست نہیں چلا سکتی اور ایسی ہی کوششوں سے پہلے ملک نقصان اٹھا چکا ہے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر بھی غور ہوا، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کئی کام صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت بعض اداروں کو ختم یا ضم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے بل کی منظوری پر احتجاج کیا اور کہا کہ قانون سازی میں جلد بازی مناسب نہیں، تاہم کمیٹی نے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی ترمیمی بل 2025 بھی اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کے تحت بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کا اختیار اب وزیراعظم کو حاصل ہوگا۔
مزید برآں آسان کاروبار بل 2025 بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ حکام نے بتایا کہ اس بل کے تحت ایک پاکستان بزنس پورٹل اور ای-رجسٹری قائم کی جائے گی، تاکہ کاروبار کی این او سی اور رجسٹریشن کا سارا عمل ایک چھت تلے مکمل ہو۔
حکام کے مطابق اس وقت ملک میں 800 سے زائد ریگولیٹری ادارے اور 27 سے 28 وزارتیں مختلف بزنس کو دیکھ رہی ہیں، جنہیں مربوط بنانے کی ضرورت ہے، بل کی منظوری کے بعد کاروباری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔


مشہور خبریں۔
اتحادی حکومت کے رہنماؤں کےخلاف دائر کرپشن کیسز عملی طور پر بند ہوگئے
?️ 18 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) نئے ترمیم شدہ احتساب قوانین کے تحت عدالتوں
ستمبر
قطر نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے معاہدے کی تفصیلات پر بات کی
?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں:فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے قطر کے وزیر اعظم اور
جنوری
عوامی احتجاج کی لہر سیول میں ٹرمپ کی موجودگی کے ساتھ ہی ہے
?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں: جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اہم اقتصادی سربراہی اجلاس
اکتوبر
سوڈان میں وسیع مظاہرے، 92 افراد زخمی
?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:سوڈان میں ہونے والے مظاہروں میں خرطوم، بحری اور ام درمان
فروری
صہیونی فوجیوں کی اسارت لے کر فیلڈ کمانڈ تک
?️ 23 ستمبر 2025 صہیونی فوجیوں کی اسارت لے کر فیلڈ کمانڈ تک فؤاد شکر، جو
ستمبر
صیہونی حکومت بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا شکار
?️ 27 اکتوبر 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کی فوج پر
اکتوبر
ایران نے خطے کا نیا نقشہ تیار کیا؛ ٹرمپ کی ذلت آمیز شکست: عطوان
?️ 20 جون 2026سچ خبریں: بین علاقائی اخبار رائی الیوم کے چیف ایڈیٹر اور ممتاز فلسطینی
جون
سندھ کا ارسا کو دوسرا مراسلہ، ٹی پی لنک کینال فوری بند کرنے کی درخواست
?️ 18 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ نے پنجاب پر تونسہ پنجند لنک کینال سے
اپریل